یو پی: استعفیٰ دینے والے سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی کو پولیس نے جبراً اسپتال میں کرایا داخل

بھوک ہڑتال کر رہے سماجوادی پارٹی رکن اسمبلی راکیش پرتاپ سنگھ کو رات میں پولیس نے اٹھایا اور انھیں سول اسپتال میں داخل کرا دیا گیا، ان کے دونوں ہاتھ باندھ کر جبراً ڈرِپ بھی لگائی گئی۔

راکیش پرتاپ سنگھ، تصویر آئی اے این ایس
راکیش پرتاپ سنگھ، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش واقع امیٹھی کے گوری گنج سے سماجوادی پارٹی رکن اسمبلی پرتاپ سنگھ اپنے حلقہ کی دو سڑکیں نہ بننے سے ناراض ہیں۔ انھوں نے اپنی اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اسی ایشو کو لے کر وہ جی پی او پر دھرنا دے رہے ہیں۔ ان کو جمعہ کی شب ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی (سول) اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ بھوک ہڑتال کر رہے سماجوادی پارٹی رکن اسمبلی راکیش پرتاپ سنگھ کو رات میں پولیس نے اٹھایا۔ انھیں سول اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ انھیں جبراً ڈرِپ بھی لگائی گئی ہے۔

پرتاپ سنگھ نے اس بات کی جانکاری خود سوشل میڈیا پر دی ہے۔ انھوں نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ’’اتر پردیش حکومت کی تاناشاہی۔ کل رات تقریباً 12 بجے مجھے انتظامیہ اور پولیس کے ذریعہ جھوٹی رپورٹ پر جبراً سول اسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ سول اسپتال کا انتظام بے حد خراب ہے۔ اس اسپتال میں بنیادی سہولیات بھی موجود نہیں ہیں۔ کیا اتر پردیش کی حکومت سے ایک رکن اسمبلی اپنے علاقے کی سڑک کے لیے مطالبہ بھی نہیں کر سکتا ہے؟ یہ تاناشاہ حکومت عوام کی آواز دبانا چاہتی ہے، لیکن ہم یہ ہونے نہیں دیں گے۔ ہماری لڑائی آخری سانس تک جاری رہے گی۔‘‘


پرتاپ سنگھ نے مزید لکھا ہے ’’میں اپنی بھوک ہڑتال کے پہلے دن سے جمہوری طریقے سے بھوک ہڑتال پر تھا۔ نہ میری طرف سے نہ میرے حامیوں کی طرف سے کوئی ایسا عمل کیا گیا جس سے سماجی توازن بگڑے۔ حکومت و انتظامیہ کے ذریعہ مجھے جبراً سول اسپتال لایا گیا اور میرے دونوں ہاتھ باندھ کر جبراً ڈرِپ لگائی گئی ہے۔‘‘ وہ آگے لکھتے ہیں ’’کیا اپنی عوام کے لیے آواز اٹھانا گناہ ہے؟ کیا ہماری جمہوریت میں مفاد عامہ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے؟ میں پوچھتا ہوں اس حکومت سے۔ میری تا مرگ بھوک ہڑتال عوام کے مطالبات پوری ہونے تک جاری رہے گی۔‘‘

واضح رہے کہ رکن اسمبلی کی حالت جمعہ کی شام بگڑ گئی تھی۔ رات تقریباً 10 بجے پولیس موقع پر پہنچی اور بھوک ہڑتال ختم کرنے کو کہا۔ لیکن رکن اسمبلی اپنی ضد پر اڑے رہے۔ اس پر پولیس نے دیر رات انھیں جبراً اٹھایا اور سول اسپتال میں داخل کرا دیا۔ اسپتال میں انھوں نے ڈرِپ لگوانے سے منع کر دیا۔ الزام ہے کہ انھیں جبراً ڈرِپ لگائی گئی۔ ابھی وہ بیہوشی کی حالت میں ہیں۔


راکیش پرتاپ سنگھ امیٹھی کے گوری گنج اسمبلی حلقہ سے لگاتار دوسری بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ انھوں نے 2 اکتوبر کو انتظامیہ کو عرضداشت پیش کر 31 اکتوبر تک دونوں سڑکوں کی تعمیر کا کام شروع کرنے کا الٹی میٹم دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ کام شروع نہیں ہوا تو وہ عہدہ سے استعفیٰ دے دیں گے۔ رکن اسمبلی کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے طریقہ کار کے خلاف دھرنا دے رہے ہیں۔ ان کی لڑائی جاری رہے گی۔ راکیش پرتاپ نے ریاستی حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام لگاتے ہوئے حال ہی میں اپنی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ لکھنؤ میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔