ایسے قبائلیوں کا ریزرویشن ختم کر دینا چاہئے جو آبا و اجداد کی روایات و عبادات سے الگ ہو گئے: وی ایچ پی

وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے اعلان کیا ہے کہ ایسے قبائلی لوگوں سے آئینی کی جانب سے دی گئی ریزرویشن کی سہولت کو چھین لینا چاہئے جو مذہب تبدیل کر لیتے ہیں

وی ایچ پی کے کار گزار صدر آلوک کمار / تصویر یو این آئی
وی ایچ پی کے کار گزار صدر آلوک کمار / تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے اعلان کیا ہے کہ ایسے قبائلی لوگوں سے آئینی کی جانب سے دی گئی ریزرویشن کی سہولت کو چھین لینا چاہئے جو مذہب تبدیل کر لیتے ہیں۔ وی ایچ پی کے بین الاقوامی ورکنگ پریزیڈنٹ آلوک کمار نے ہفتہ کے روز دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جس طرح مذہب تبدیل کر لینے پر درج فہرست ذات کے لوگوں کا ریزرویشن ختم ہو جاتا ہے اسی طرح درج فہرست قبائل کے ان لوگوں کا بھی ریزرویشن ختم ہونا چاہئے جنہوں نے دوسرے مذاہب کو اختیار کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر سال کی طرح 23 دسمبر کو ’دھرم رکشا دوس‘ منایا جائے گا۔ اس بار اس مہم کے تحت مذہب کی تبدیلی کی سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لیے لٹریچر کی تقسیم، جلسہ عام، سوشل میڈیا وغیرہ کے ذریعے عوامی بیداری مہم چلائی جائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کورونا کی ہولناک تباہی کے وقت جب پورا ملک کورونا سے نبرد آزما ہے اور بیشتر سماجی و مذہبی تنظیمیں خدمت کے کاموں میں مصروف ہیں، تب مولوی اور پادری جارحانہ طریقے سے تبدیلی مذہب کا کام کر رہے تھے۔


وی ایچ پی کے کارگزار صدر نے کہا ’’آئین میں درج فہرست ذاتوں کی ترقی کے لیے التزمات کیے گئے ہیں، جو قدرتی طور پر مذہب کی تبدیلی کے بعد ختم ہو جاتے ہیں لیکن ان کی مراعات درج فہرست قبائل سے تبدیل ہونے کے بعد بھی برقرار رہتی ہیں۔ درج فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد جنہوں نے مذہب تبدیل کیا ہے وہ اپنے آبا و اجداد کی روایات و عبادات سے الگ ہو گئے ہیں۔ ان کو قبائل کی حیثیت سے مل رہے مراعات کو ختم کرنے کے لئے بھی جلد از جلد ضروری آئینی ترامیم بھی کی جانی چاہئیں تاکہ قبائل کو حاصل ہونے والے فوائد سے انہیں محروم رکھا جا سکے۔‘‘

آئینی دفعات اور موجودہ قانون کے مطابق مرکزی حکومت اور یونین ٹیریٹریز کی ملازمتوں اور مرکز کے زیر انتظام عوامی شعبوں کے اداروں میں ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کے لئے بالترتیب 15، 7.5 اور 27 فیصد سیٹیں محفوظ ہیں۔ ان کے علاوہ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں بھی ایس سی اور ایس ٹی کے لئے سیٹیں مختص کی گئی ہیں۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ملک میں ایس ٹی کی آبادی 8.6 فیصد یعنی 10.42 کروڑ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔