اعلی ذاتوں کو ریزرویشن، مودی کے ایک اور جملہ کے سوا کچھ نہیں!

مودی حکومت اگر تمام رکاوٹوں کو پار کر کے ’غریب اعلیٰ ذات‘ افراد کو ریزرویشن دینے میں کامیاب ہو بھی جاتی ہے تو بھی اس سے ان کا فائدہ ہونے کی امید نہ کے برابر ہے۔

قومی آوازبیورو

آر ایس ایس اور بی جے پی کے رہنماؤں کی طرف سے اکثر ایس سی اور ایس ٹی کو دیئے جانے والے ریزرویشن کے خلاف بیانات آتے رہے ہیں۔ ایسے کئی مواقع آئے جب بی جے پی رہنماؤں کے بیانوں سے اعلی ذاتوں اور دلتوں میں کشیدگی پیدا ہوئی۔ لیکن اب مودی حکومت نے اچانک اقتصادی طور پر کمزور طبقات کو ریزرویشن کا فائدہ دینے کا وعدہ کر کے ریزرویشن کی جڑوں کو مزید مضبوط کرنے کا کام کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے جن لوگوں کو سبزباغ دکھا کر یہ بل لایا جا رہا ہے کیا واقعی میں اس بل کے بعد ان کی زندگی میں کوئی انقلاب برپا ہونے والا ہے یا پھر یہ وعدہ بھی مودی کے پرانے وعدوں کی طرح محض ایک جملہ ہی ثابت ہونے جا رہا ہے!۔

مودی حکومت نے اب جو اعلیٰ ذاتوں کو نیا ریزرویشن کا خواب دکھایا ہے وہ کس طرح جملہ ثابت ہونے جا رہا ہے اس حوالہ سے ’ستیہ گرہ ڈاٹ کام‘ پر راہل کوٹیال کی ایک تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ رپورٹ میں ریزرویشن کے حوالہ سے تمام پہلوؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔

مودی حکومت آئینی ترمیمی بل اس لئے لے کر آئی ہے کیوںکہ آئین میں اقتصادی بنیاد پر ریزرویشن دینے کا کہیں ذکر نہیں ہے اور آرٹیکل 15 اور 16 صرف سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات کو ریزرویشن دینے کی بات کرتے ہیں۔ ایسا اس لئے ہے کیوںکہ آئین کے تخلیق کاروں کا ماننا تھا کہ ریزرویشن کوئی انسداد غریبی منصوبہ نہیں ہے بلکہ ان طبقات کو سماجی انصاف فراہم کرنا ہے جنہیں ہزاروں سال تک ظلم کا شکار بنایا گیا ہے۔ مودی حکومت پارلیمنٹ میں 124واں آئینی ترمیمی بل لائی جو لوک سبھا سے منظور ہو چکا ہے اور جس طرح سے وہاں حمایت ملی اس سے کہا جا سکتا ہے کہ راجیہ سبھا سے بھی اسے منظور کرانے میں زیادہ پریشانی نہیں ہوگی۔

لیکن صرف پارلیمنٹ سے منظور کرانے سے ہی سب کچھ نہیں ہونے والا۔ واضح رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے جب کوئی حکومت اقتصادی بنیاد پر ریزرویشن دینے کی بات کر رہی ہے۔ پہلے جب بھی اس طرح کی کوششیں ہوئی ہیں تب تب سپریم کورٹ نے اس پر روک لگا دی۔ کئی ریاستیں بھی اس طرح کی ناکام کوششیں کرچکی ہیں۔

پارلیمنٹ سے منظوری ملنے کے بعد فرض کرو کہ سپریم کورٹ نے بھی اس معاملہ میں کوئی مداخلت نہیں کی اور ’اعلی ذات غریب‘ ریزرویشن کے حقدار بن جاتے ہیں (خواہ اس کے امکان نہ کے برابر ہیں)، تو آئیے اب ریزرویشن کے عملی پہلو پر نظر ڈالتے ہیں۔

اول تو یہ ایک بڑا سوال ہے کہ غریب اعلی ذات افراد ہیں کون؟ حکومت نے جن اعلیٰ ذات افراد کو ریزرویشن کی بات کہی ہے اس میں صرف ہندو ہوں گے یا مسلمان، جین، بودھ، سکھ، عیسائی اور پارسی سب شامل ہوں گے؟ چلو مان لیتے ہیں کہ جو لوگ ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی میں شامل نہیں ہیں وہ سب اس زمرے میں آ جائیں گے، خواہ وہ کسی بھی مذہب سے وابستہ ہوں۔

اب سوال کھڑا ہوتا ہے کہ غریب اعلیٰ ذات افراد کو کیسے طے کیا جائے؟ غریب وہ ہوگا جو نسل در نسل غریب ہے یا جو حال ہی میں غریب ہوا ہے، وہ جو پیدا ہی غریب ہوا ہے یا وہ جو باپ کے بے دخل کرنے سے غریب ہوا ہے؟ کوئی امیر کی بیٹی اگر غریب سے شادی کر لیتی ہے تو کیا وہ بھی غریب مانی جائے گی؟ کوئی اگر اپنا کروڑو کا کاروبار لٹا کر دیوالیا ہو جاتا ہے تو وہ غریب مانا جائے گا یا نہیں؟ اور جس کا دیوالا جوا کھیلنے کی لت کی وجہ سے نکلا ہے اسے بھی ریزرویشن کا فائدہ ملنا چاہیے یا نہیں؟۔

فرض کریں کہ مودی حکومت ان تمام سوالات سے کو نبردآزما ہونے کے بعد ریزرویشن دینے میں کامیاب رہتی ہے، تو پھر کیا ہوگا؟

میڈیا رپورٹوں کے مطابق حکومت غریب کے لئے جو پیمانے رکھے ہیں اس کے مطابق ایک شخص کی سالانہ آمدنی آٹھ لاکھ یا اس سے کم ہونی چاہیے۔ غور طلب ہے کہ ہندوستان میں فی کس آمدنی 1.13 لاکھ روپے سالانہ ہے۔ اس طرح سے دیکھا جائے تو ملک میں غریبوں کی اوسط آمدنی سے سات گنا زیادہ کمانے والے بھی اس ریزرویشن کے لحاظ سے غریب سمجھے جائیں گے۔ بلکہ یہ کہا جائے کہ ایک بڑا طبقہ اس ریزرویشن کے دائرے میں آ جائے گا۔

کچھ زیادہ ہی پُر امید ہوکر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس ریزرویشن سے یہ یقینی ہو جائے گا کہ اب ہر جگہ کم از کم دس فیصد نمائندگی ’غریب اعلیٰ ذاتوں‘ کی ہوگی لیکن یہ کیسے غریب ہیں یہ ہم اور آپ دیکھ چکے ہیں۔ نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں ایسے ’غریب اعلیٰ ذاتوں‘ کی تعداد اس وقت بھی 10 فیصد سے زیادہ ہی ہوگی۔

اگر اس ریزرویشن کے منفی اثرات کی بات کی جائے تو اس کی فہرست بہت لمبی ہے۔ اوپر لکھے حقائق اور امکانات کے علاوہ یہ ریزروشن دیگر نئے ریزرویشنوں کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے۔ تمام ماہرین کا خیال ہے کہ پسماندہ طبقات کو مل رہا ریزرویشن ان کی آبادی کے لحاظ سے بے حد کم ہے۔ اب اگر حکومت 50 فیصد کی حد 50 فیصد کو پار کر جاتی ہے تو مردم شماری کے تازہ اعداد و شمار جاری ہونے کے بعد پسماندہ طبقات کی طرف سے دباؤ بنایا جا سکتا ہے کہ انہیں ان کی آبادی کے تناسب سے ریزرویشن دیا جائے۔ ابھی تک حکومت کے پاس یہ دلیل تھی کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی پابند ہے اور 50 فیصد سے زیادہ ریزرویشن نہیں دے سکتی۔

ان تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد یہ صاف ہے کہ ’غریب اعلیٰ ذاتوں‘ کو مودی حکومت جس ریزرویشن کا خواب دکھا رہی ہے وہ گزشتہ خوابوں کی طرح خواب ہی نہ ہو۔ لیکن اس مرتبہ خاص بات یہ ہے کہ اگر یہ سچ ہو بھی گیا تو بھی عوام کے کسی کام نہیں آنے والا۔