مذہبی رواداری کی مثال: حاجی سعید نے کیا دھارا سنگھ  کی بیٹی کا ’کنیا دان‘

دھارا سنگھ نے کہا کہ حاجی سعید میرے بچپن کے دوست ہیں، ہم نے دسویں کلاس ایک ساتھ کی تھی۔ وہ میرے گھر کے رکن کی طرح ہیں، وہ بھی مجھے اسی طرح محبت دیتے ہیں

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

آس محمد کیف

مودی نگر: ایسے وقت میں جب ملک میں نفرت کا بازار گرم ہے اور سیاست کے لئے فرقوں کو آپس میں لڑوانے کا کام کیا جا رہا ہے، غازی آباد کے مراد نگر قصبہ میں دھارا سنگھ نے اپنی بیٹی کا ’کنیا دان‘ اپنے دوست حاجی سعید سرے سے کروا کر مذہبی ہم آہنگی کی مثال پیش کی ہے۔ اتنا ہی نہیں دھارا سنگھ نے شادی کے کارڈ پر بھی حاجی سعید کا نام چھپوایا ہے۔

مذہبی رواداری کی مثال: حاجی سعید نے کیا دھارا سنگھ  کی بیٹی کا ’کنیا دان‘

اس حوالہ سے بات کرنے پر دھارا سنگھ نے کہا کہ انہوں جو کچھ بھی کیا اس کے کوئی سیاسی معنی نہیں ہیں، یہ دِلی محبت کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’حاجی سعید میرے بچپن کے دوست ہیں، ہم نے دسویں کلاس ایک ساتھ کی تھی۔ وہ میرے گھر کے رکن کی طرح ہیں، وہ بھی مجھے اسی طرح محبت دیتے ہیں۔‘‘ دھارا سنگھ نے کہا کہ ان کی حاجی سعید سے 30 سال پرانی دوستی کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم دو جسم ایک جان ہیں، میری دیوالی ان کے بغیر اور ان کی عید میرے بغیر نہیں ہوتی۔

مذہبی رواداری کی مثال: حاجی سعید نے کیا دھارا سنگھ  کی بیٹی کا ’کنیا دان‘

دھارا سنگھ کا کہنا ہے کہ ان کے رشتہ دار بھی ان کی اور حاجی سعید کی دوستی کا احترام کرتے ہیں لہذا کسی نے کچھ نہیں کہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دھارا سنگھ نے حاجی سعید کا نام کارڈ پر اداعی کے طور پر لکھوایا ہے اور اپنا نام اس کے نیچے لکھا ہے۔

دھارا سنگھ کی بیٹی دیپا کی شادی 4 فروری کو ہوئی تھی اور حاجی سعید اور دھارا سنگھ نے مشترکہ طور پر کنیا دان کی رسم ادا کی۔ اس رسم میں دلہن کے والد اپنی بیٹی کا ہاتھ دولہے کے ہاتھ میں دیتے ہیں۔ رخصتی کے وقت حاجی سعید کی آنکھوں میں بھی انسو تھے اور یہ منظر دیکھ کر لوگ مسحور رہ گئے۔

حاجی سعید نے کہا، ’’دھارا سنگھ میرے گھر میں وہی حیثیت رکھتے ہیں جو میری ان کے گھر میں ہے۔ دھارا سنگھ میرے خاندان کے حوالہ سے جو بھی فیصلہ لیتے ہیں وہ ہمارے بچے بھی مانتے ہیں۔ دیپا میری بیٹی ہے، یہ ہمارے بچوں کے ساتھ ساتھ بڑے بھی جانتے ہیں۔ یہی وجہ سے کہ دھارا سنگھ کے والد مجھے اپنا بیٹا قرار دیتے ہیں۔

حاجی سعید کا تعلق میرٹھ سے ہے اور وہ ماہی گیر برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور مچھلی فروخت کرنے کا کاروبار کرتے ہیں۔ کچھ ماہ قبل جب میرٹھ میں تبریز انصاری کی موب لنچنگ کے خلاف مظاہرہ ہوا تھا تو ان کا نام مقدمہ میں لکھا دیا گیا تھا۔ اس پر دھارا سنگھ نے کہا، ’’ایک ایسا شخص جو کسی مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ بھید بھاؤ نہیں کرتا، میرٹھ میں کچھ سیاسی رہنماؤں نے اسے بلی کا بکرا بنانے کی کوشش کی تھی۔‘‘

مودی نگر کے ناصر منصوری نے کہا، ’’اس طرح کی مثالیں سماج میں پہلے بھی پیش کی جاتی رہی ہیں لیکن آج کے ماحول میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور دنیا کو ہمارے ملک کی خوبصورتی کا پتا چلنا چاہئے۔‘‘ مودی نگر علاقہ میں اس شادی کی کافی تعریف کی جا رہی ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سیاسدانوں کی نفرتوں کا اثر زمین پر زیادہ نہیں ہوتا اور لوگ آج بھی ایک دوسرے کے خوشی اور غم میں شانہ بشانہ رہتے ہیں۔

Published: 13 Feb 2020, 8:30 PM