حیدرآباد: لڑکی کا پولس والے سے شادی کرنے سے انکار، کانسٹیبل کا ملازمت سے استعفی

لڑکی کا کہنا ہے کہ کانسٹیبل یعنی 24 گھنٹے کام کرنا، اسی لئے وہ ایسے لڑکے سے شادی نہیں کرسکتی۔ یہ سننے کے بعد کانسٹیبل لڑکے نے لڑکی سے شادی کرنے کے لیے استعفیٰ دے دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

حیدرآباد: ”سر میں چارمینار پولس اسٹیشن میں خدمات انجام دے رہا ہوں، میرے گھر میں میری شادی کے لئے رشتہ تلاش کیا جا رہا ہے، 15 دن پہلے شادی کے سلسلہ میں لڑکی دیکھنے کے لئے گئے تو لڑکی نے مجھ سے یہ کہتے ہوئے شادی کرنے سے انکار کردیا کہ میں کانسٹیبل ہوں۔ اس لڑکی کا کہنا ہے کہ کانسٹیبل یعنی 24 گھنٹے کام کرنا ہوتا ہے، اسی لئے وہ ایسے لڑکے سے شادی نہیں کرسکتی اور پھر اس لڑکی نے مجھ سے شادی کرنے سے انکار کر دیا۔ اسی لئے میں اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے رہا ہوں“۔

یہ دراصل ایک کانسٹیبل کا جذباتی مکتوب ہے جس کو انہوں نے کمشنر پولس حیدرآباد انجنی کمار کے نام لکھا۔ اس ماہ کی 7 تاریخ کو پرتاب نامی اس کانسٹیبل کی جانب سے لکھا گیا خط سوشل میڈیا پروائرل ہوگیا۔ پرتاب نے اپنے اس خط میں لکھا ہے کہ پولس کانسٹیبل بننے والوں کو سروس کے مطابق ترقی کے مواقع نہیں مل سکتے۔

انہوں نے خط میں مزید لکھا کہا، 20سال تک کانسٹیبل کے طورپر خدمات انجام دینے والے کو ہیڈ کانسٹیبل بنایا جاتا ہے، جبکہ دیگر سرکاری محکمہ جات میں سروس کے مطابق ترقی دی جاتی ہے۔ اس بات کا جائزہ لینے پر اس کو کافی مایوسی ہوتی ہے۔

اس معاملہ پر جب پرتاب سے ربط پیدا کیا گیا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ہی یہ خط لکھا ہے اور وہ اس پر کوئی بات نہیں کریں گے کیونکہ یہ محکمہ پولس کا داخلی معاملہ ہے۔

Published: 12 Sep 2019, 5:10 PM