حالات کی اصلاح، فکر کی اصلاح سے ہی ممکن: محمود مدنی

مولانا محمود مدنی نے بے پناہ مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے حالات میں تبدیلی حکومتوں کی تبدیلی سے نہیں بلکہ فکر اور کردار میں تبدیلی سے آتی ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

یو این آئی

کیرانہ: مولانا سید محمود اسعد مدنی نے یہاں القرآن اکیڈمی کے اچانک دورے میں قرآن کے ذریعہ مسلمانوں اور غیر مسلمین کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوششوں کی ستائش کی۔ موصوف نے اس موقع پر القرآن اکیڈمی کیرانہ کے پروجیکٹ اور اس کی کارکردگی کا معائنہ بھی کیا اور القرآن اکیڈمی کی طرف سے مسجد واقع شاملی بس اسٹینڈ کیرانہ میں منعقدہ ایک پروگرام میں شرکت بھی کی۔

افتتاحی خطبے میں ڈائریکٹر القرآن اکیڈمی کیرانہ مفتی اطہر شمسی نے مولانا مدنی کی آمد پر اپنے خوشگوار تاثرت کا اظہار کیا اور کہا کہ القرآن اکیڈمی کا مقصد مسلمانوں اور غیر مسلمین دونوں سے قرآن سے بالواسطہ اور راست دوری کو ختم کرنا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے حاضرین کو اکیڈمی کے پروجیکٹ اور اس کی حصولیابیوں سے بھی واقف کرایا۔

اکیڈمی کے طلبا نے اپنی عربی کلاسز کا ایک نمونہ بھی پیش کیا جس میں قرآن کا ترجمہ اور آیات کریمہ کی تلاوت شامل تھی۔ اس موقع پر ان طلبا سے عربی گرامر سے متعلق سوالات بھی کیے گئے۔ حاضرین طلبا کی کارکردگی کو دیکھ کر اور یہ جان کر حیران رہ گئے کہ عربی دانی کی صلاحیت طلبا نے صرف بارہ گھنٹوں میں حاصل کی ہے۔

مولانا محمود مدنی نے اس موقع پر بے پناہ مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے حالات میں تبدیلی حکومتوں کی تبدیلی سے نہیں بلکہ فکر اور کردار میں تبدیلی سے آتی ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے فکر اور کردار میں تبدیلی کا کام کریں، اس موقع پر مولانا نے طلبا کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا اور ڈائریکٹر القرآن اکیڈمی کو دہلی میں تفصیلی گفتگو کے لیے مدعو کیا۔

پروگرام میں مولانا محمد عاقل صدر جمعیۃ علماء مغربی زون، مولانا محمد عمران، قاری محمد انیس، محمد الطاف، کاظم علی، خالد بن سعود وغیرہ نے شرکت کی۔