ہائی کورٹ میں ججوں کی تقرری کے لیے 68 ناموں کی سفارش، 10 خواتین بھی شامل

مارلی وانکنگ میزورم سے پہلی ایسی جیوڈیشیل افسر بن گئی ہیں جن کا نام گواہاٹی ہائی کورٹ میں جج کے عہدہ کے لیے بھیجا گیا ہے، وہ درج فہرست قبائل سے تعلق رکھتی ہیں۔

جسٹس این وی رمنا / آئی اے این ایس
جسٹس این وی رمنا / آئی اے این ایس
user

تنویر

چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنّا کی قیادت والے سپریم کورٹ کالجیم نے ایک حیرت انگیز فیصلہ کے تحت الٰہ آباد، راجستھان اور کلکتہ سمیت 12 ہائی کورٹس میں ججوں کی تقرری کے لیے ایک بار میں 68 ناموں کی سفارش کر دی ہے۔ ان ہائی کورٹس میں ججوں کی کافی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق جسٹس رمنّا، جسٹس یو یو للت اور جسٹس اے ایم کھانولکر کے تین رکنی کالجیم نے ایک بار پھر تاریخی فیصلہ لیا۔ مارلی وانکنگ میزورم سے پہلی ایسی جیوڈیشیل افسر بن گئی ہیں جن کا نام گواہاٹی ہائی کورٹ میں جج کے عہدہ کے لیے بھیجا گیا ہے۔ وہ درج فہرست قبائل سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے علاوہ 9 دیگر خواتین امیدواروں کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ کالجیم نے 25 اگست اور یکم ستمبر کو اپنی میٹنگوں میں ہائی کورٹس میں ججوں کے طور پر پروموشن کے لیے 112 امیدواروں کے ناموں پر غور کیا تھا۔ ذرائع نے کہا کہ ’’ان میں 68 کے ناموں کو 12 ہائی کورٹس کے لیے منظوری فراہم کی گئی، ان میں 44 بار سے اور 24 جیوڈیشیل سروس سے ہیں۔‘‘


واضح رہے کہ اگر ان ناموں پر مرکزی حکومت کی مہر لگ جاتی ہے تو یہ جج الٰہ آباد، راجستھان، کلکتہ، جھارکھنڈ، جموں و کشمیر، مدراس، پنجاب-ہریانہ، مدھیہ پردیش، کرناٹک، کیرالہ، چھتیس گڑھ اور آسام ہائی کورٹ میں تقرر کیے جائیں گے۔ ان میں سے 16 ججوں کی الٰہ آباد ہائی کورٹ میں بھی تقرری ہوگی جہاں کل 160 جج ہونے چاہئیں، لیکن فی الحال صرف 93 جج ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔