ملی ٹینٹوں کی حالیہ کارروائیاں کشمیریوں کے مفاد میں نہیں: پولس سربراہ دلباغ سنگھ

دلباغ سنگھ نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں لوگوں کے مفاد میں نہیں ہیں، لوگ اس طرح کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں، یہ بہت غلط بات ہے۔ ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ ان کارروائیوں میں کون لوگ ملوث ہیں

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: جموں وکشمیر کے پولس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا کہ میوہ صنعت سے وابستہ افراد پر حملے کشمیر کی معیشت پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں مقامی لوگوں کے مفاد میں نہیں ہیں جو ان کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں۔

پولس سربراہ نے ہفتہ کے روز یہاں ہمہامہ میں واقع بی ایس ایف ہیڈکوارٹر میں منعقدہ دیولی تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ 'میوہ صنعت سے وابستہ افراد پر حملوں کی تفتیش جاری ہے۔ ہمیں کچھ اہم سراغ ملے ہیں۔ یہ یہاں کی معیشت پر حملہ ہے۔ یہ لوگوں کی روزی روٹی پر حملہ ہے۔ لوگوں کی روز مرہ کی زندگی میں دخل دینے کی کارروائی ہے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'اس طرح کی کارروائیاں لوگوں کے مفاد میں نہیں ہیں۔ لوگ اس طرح کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ بہت غلط بات ہے۔ ہماری تفتیش آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ ان کارروائیوں میں کون لوگ ملوث ہیں'۔

بتادیں کہ وادی میں جاری ہڑتال کے بیچ جنوبی کشمیر میں غیر ریاستی شہریوں بالخصوص میوہ صنعت سے وابستہ بیوپاریوں اور ٹرک ڈرائیوروں کی ہلاکت کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ دس دنوں کے دوران نامعلوم اسلحہ برداروں کے ہاتھوں تین ٹرک ڈرائیوروں اور ایک سیب بیوپاری سمیت پانچ غیر ریاستی افراد کی ہلاکت اور ایک کو زخمی کردینے کے واقعات پیش آئے ہیں۔

پولس سربراہ دلباغ سنگھ نے جنوبی کشمیر میں میوہ صنعت سے وابستہ افراد پر حملوں اور اوڑی میں پاور ٹرانسمیشن ٹاور کو نقصان پہنچانے کی کوشش سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ 'یہ دونوں باتیں صحیح ہیں۔ یہاں کی معیشت باغبانی اور سیاحتی شعبوں پر منحصر ہے۔ پاکستان کے اشاروں پر کام کرنے والے ملی ٹینٹ یہاں کی معیشت کو چھوٹ پہنچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ملوثیں کی شناخت ہوچکی ہے۔ ابھی ہم ان کی شناخت منکشف نہیں کریں گے۔ ٹاور کو نقصان پہنچانے کا مقصد یہاں لوگوں کو دستیاب سہولیات کو نقصان پہنچانا ہے۔ اس علاقے میں مزید اقدام اٹھائے گئے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ یہ کیس بھی بہت جلد حل ہوگا'۔

پولس سربراہ نے 31 اکتوبر جب جموں وکشمیر اور لداخ نامی دو مرکزی زیر انتظام والے علاقے معرض وجود میں آئیں گے، سے قبل حملوں میں آئی تیزی کے حوالے سے کہا کہ 'ملی ٹینٹ اور ان کے آقا موجود ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ امن کو نقصان پہنچایا جائے۔ ہماری کوشش ہے کہ امن بحال ہو اور لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ پچھلے کچھ دنوں سے ہمارے آپریشنز بھی بڑھے ہیں۔ ملی ٹینٹوں کا نقصان بھی ہوا ہے'۔

دلباغ سنگھ نے سرحدوں پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے واقعات میں اضافے پر کہا کہ 'پاکستان اور آئی ایس آئی کی طرف سے لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کافی عرصے سے جاری ہیں۔ یہ کارروائیں پچھلے کچھ عرصے میں بڑی ہیں۔ مگر ان کا منہ توڑ جواب دیا گیا ہے اور آگے بھی منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ ان کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا جائے گا۔ کہیں کہیں دراندازی ہوئی ہے۔ اس طرح کی بہت سی کارروائیوں کو ناکام بنایا گیا ہے'۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔