حیدرآباد انکاؤنٹر پر سیاست دانوں کی ستائش اور فکرمندی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: حیدرآباد میں پیش آئے انکاؤنٹر کی مختلف سیاسی لیڈروں نے ستائش اور فکرمندی ظاہر کی۔ سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ جیہ بچن نے اسے تیزتر انصاف قرار دیا جبکہ منیکا گاندھی‘ ششی تھرور نے اس انکاؤنٹر پر تشویش کا اظہار کیا۔

دوسری طرف دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا کہ حیدرآباد ہو یا اناؤ لوگ ایسے عصمت دری کے واقعات پر تشویش کا شکار تھے اسی لئے لوگوں نے مسرت کا اظہار کیا۔ تاہم اُنہوں نے کہا کہ یہ فکرمندی کی بات ہے کہ انصاف کے نظام پر لوگوں کا عقیدہ اٹھ گیا ہے۔ حکومتوں کو مل کر فوجداری انصاف کے نظام کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ راجیہ وردھن راٹھور نے اس انکاؤنٹر کی ستائش کی۔ اُنہوں نے حیدرآباد پولس کو مبارکباد پیش کی۔ کانگریس لیڈر شرمستھا مکرجی نے اس انکاؤنٹر پر سوالات اٹھائے اور اس کی غیرجانبدارانہ جانچ کرنے کا مطالبہ کیا۔

چودھری نے کہا کہ چھ دسمبر کو بابری مسجد گرائی گئی تھی لیکن اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وہاں رام مندر بن رہا ہے۔انہوں نے کہا،’’ایک طرف تو ہندوستان میں مریادہ پروشوتم رام کا مندر بنایا جارہا ہے اور دوسری طرف سیتا مئیا کو جلایا جارہا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف حیدرآباد میں تلنگانہ پولس بھاگنے کی کوشش کررہے ملزمین کو گولی سے اڑا دیتی ہے دوسری طرف اترپردیش میں ضمانت پر رہا ملزم متاثرہ کو زندہ جلا دیتے ہیں۔

بی جےپی کی میناکشی لیکھی نے کہا کہ اترپردیش میں پولس کا خصوصی تفتیشی دستہ(ایس آئی ٹی)اس معاملے کی جانچ کررہی ہے۔حیدرآباد میں قانونی عمل میں پولس نے گولی چلائی ہے۔ پولس کو ہتھیار سجاوٹ کےلئے نہیں دئے جاتے ہیں۔ بی ایس پی کے لیڈر دانش علی ،بیجو جنتا ڈل کے انوبھو موہنتی اور ترنمول کانگریس کے پروفیسر سوگت رائے،شیوسینا کے اروند ساونت،اپنا دل کی انوپریا پٹیل اور جنتادل یونائیٹیڈ کے راجیو رنجن سنگھ نے دونوں واقعات پر اپنی رائے رکھی اور اسے سیاست سے پرے رکھ کر سخت سے سخت کارروائی کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس کے بعد خواتین و اطفال کے فلاح کی وزیر اسمرتی ایرانی نے کہاکہ کانگریس کے لیڈر کہہ رہے ہیں کہ ان معاملوں کو سیاسی رنگ نہیں دیناچاہئے لیکن ایسے واقعات کو فرقہ وارانہ رنگ کون دے رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت نے ملک میں 1023 فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کےلئے ہرریاست کو رقم دی ہے۔

اس دوران ایرانی کے بیان پر مخالفت کرتے ہوئے اپوزیشن اراکین نے سخت تبصرے کئے جس پر ایرانی کے تیکھے تیور دیکھتے ہوئے نشست کی جانب سے ایرانی کا مائک بند کردیا گیا جس سے ایرانی کے چہرے پر غصہ نظر آنے لگا۔اس دوران ٹی این پرتاپن غصہ اور جوش میں کچھ قابل اعتراض بات کہہ گئے۔اس ایرانی بھی شدید غصہ میں آگئیں۔دونوں ایک دوسرے کو بیچ و بیچ آنے کی دھمکی دینے لگےاور ایرانی اپنی سیٹ سے اٹھ کر آگے بڑھنے لگیں۔یہ دیکھ کر برسر اقتدار کے اراکین کھڑے ہوگئے اور سیاحت و ثقافت کے وزیر پرہلاد سنگھ پٹیل نے ایرانی کو سنبھالا اور سیٹ پر بٹھایا لیکن ان کا غصہ کم نہیں ہورہا تھا۔

بعد میں اسپیکر کی مداخلت کے بعد کسی طرح ماحول قابو میں آیا۔ابھی دو تین اراکین بول ہی رہے تھے کہ مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے دخل دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے رکن مرکزی وزیر سے جس طرح پیش آئے،انہیں اس کےلئے معافی مانگنی چاہئے۔اس پر پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی اور وزیر مملکت ارجن رام میگھوال بھی معافی کا مطالبہ کرنے لگے۔ اسپیکر نے اس پر کانگریس کے گورو گوگوئی کو اپنا موقف رکھنے کےلئے کہا۔ گوگوئی نے کہا کہ اناو کے واقعہ پر سیاسی تبصرہ ایرانی کی جانب سے کیا گیا جبکہ ہم چاہتے تھے کہ حکومت بتائےکہ ملزم کیسے ضمانت پر رہا ہوا۔اس کی مخالفت میں ہم اپنی سیٹوں پر کھڑے تھے ۔

اس پر اسپیکر برلا نے کہا کہ کیا سیاسی تبصرے کے جواب میں بیچ و بیچ آکر اراکین کو دھمکانامناسب ہے۔انہوں نے کہاکہ کوئی کتنا بھی تیکھا سیاسی تبصرہ کرے،اس کا جواب تبصرے سے ہی دیا جائے۔غیر پارلیمانی بات کو وہ ریکارڈ میں نہیں جانے دیں گے۔یہ ریکارڈ میں نہ ہونے کے باوجود اگر کوئی اخبار اسے چھاپتا ہے تواس کا بھی ضابطہ اخلاق بنےگا۔انہوں نے کہا کہ ان کے دفتر میں سبھ کے اتفاق سے یہ اصول قائم کرے اور ایوان کے وقار کے ساتھ چلے۔

اس دوران ایوان میں پیچھے کی سیٹوں پر بیٹھے اراکین کے تبصرے سے اسپیکر ناراض ہوگئے اور انہوں نے کہا،’’مجھے بتانے کی کوشش نہ کریں۔اگر ایسا ہوا تو میں نام لے کر ایوان سے باہر کرنے کےلئے کہوں گا۔ایسے نہیں چلنے والا ہے۔‘‘ادھر ایوان میں ایرانی اپنی سیٹ پر غصے میں بیٹھی رہیں اور دیگر اراکین انہیں منانے کی کوشش کررہے تھے۔تبھی اسپیکر نے ایوان کی کارروائی دوپہر بعد 1.30بجے تک کےلئے ملتوی کردی۔ کارروائی ملتوی ہونے کے بعد بھی ایوان کا ماحول کافی حد تک خراب رہا۔ ایرانی غصے میں ترنمول کے اراکین پروفیسر سوگت رائے سے بات کرتی نظر آئیں۔

    Published: 6 Dec 2019, 9:35 PM