آر بی آئی بورڈ کی میراتھن میٹنگ ختم، نقدی کی قلت نہ ہونے دینے کا عزم

صبح 10.30 بجے سے شروع ہوئی آر بی آئی کی انتہائی اہم میٹنگ شام میں ختم ہوئی جس میں کئی اہم فیصلے لیے گئے۔ مودی حکومت کو ریزرو پونجی دی جائے یا نہیں، یہ فیصلہ کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

قومی آوازبیورو

مرکز کی مودی حکومت کے ساتھ جاری رسہ کشی کے درمیان پیر کے روز یہاں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے بورڈ کی میراتھن میٹنگ ہوئی جو دیر شام قریب ساڑھے سات بجے ختم ہو گئی۔ اس میٹنگ کے نتائج سے ریزرو بینک اور حکومت کے درمیان کشیدگی میں کمی آنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق آر بی آئی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ادارہ نقدی کی قلت کسی بھی حال میں نہیں ہونے دے گی۔

اس میٹنگ میں مودی حکومت کے ذریعہ ریزرو پونجی سے تقریباً 50 ہزار کروڑ فنڈ کے مطالبہ کے تعلق سے بھی گفتگو ہوئی۔ خصوصی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ تشکیل شدہ کمیٹی ریزرو پونجی کی ضرورتوں کا تجزیہ کرے گی اور یہ فیصلہ لے گی کہ حکومت کو یہ فنڈ منتقل کیا جائے یا نہیں۔

پیر کے روز صبح تقریباً 10.30 بجے شروع ہوئی آر بی آئی کی اس میٹنگ میں این بی ایف سی کے لیے الگ سے کوئی وِنڈو نہ کھولے جانے کا بھی اعلان کیا گیا اور ساتھ ہی آئندہ 14 دسمبر کو اگلی بورڈ میٹنگ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ میٹنگ میں آر بی آئی کے انتظامی امور پر غور و خوض کیا جائے گا۔

یہاں قابل ذکر ہے کہ ریزرو بینک کے ڈپٹی گورنر ویرل آچاریہ کے ایک بیان سے کشیدگی پیدا ہوئی تھی اور یہ اتنی بڑھ گئی کہ ریزرو بینک کے گورنر ارجت پٹیل کے استعفی دیئے جانے تک کا خدشہ ظاہر کیا جانے لگا تھا۔ اس رسہ کشی کو ختم کرنے کی کوششیں چل رہی ہیں۔

بہر حال، آر بی آئی بورڈ میں کل 18 اراکین ہیں، جن میں مسٹر ارجت پٹیل کے علاوہ ان کے چار ڈپٹی بھی شامل ہیں۔ تاہم، مسٹر پٹیل کے علاوہ کسی بھی ڈپٹی گورنر کو ووٹ ڈالنے کا حق نہیں ہے۔ بورڈ میں دو سرکاری افسر اور حکومت کی طرف سے نامزد سات آزاد ڈائریکٹر س ہیں۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

Published: 19 Nov 2018, 3:39 PM