قومی

پارلیمانی کمیٹی کے سامنے آر بی آئی گورنر کی پیشی آج

اُرجت پٹیل سے پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی نوٹ بندی اور اس سے کسانوں پر پڑنے والے اثرات کے تعلق سے سوال پوچھ سکتی ہے، اور آر بی آئی و مرکزی حکومت کے درمیان رسہ کشی کا معاملہ بھی اٹھا سکتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر اُرجت پٹیل 27 نومبر کو پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے والے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی ارجت پٹیل سے نوٹ بندی کے بعد معیشت پر پڑنے والے اثرات کے تعلق سے سوال کرے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نوٹ بندی کے سوالوں کے ساتھ ساتھ پارلیمانی کمیٹی پٹیل مرکزی حکومت اور آر بی آئی کے درمیان پیدا رسہ کشی کے تعلق سے بھی سوال پوچھ سکتی ہے۔

پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی کے ساتھ اُرجت پٹیل کی میٹنگ کافی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کمیٹی سنٹرل بینک میں ضروری اصلاحات کیے جانے کی بات رکھ سکتی ہے اور اس سلسلے میں ارجت پٹیل سے مشورہ بھی لیا جا سکتا ہے۔ انتظامی اصلاحات سے جڑے کئی طرح کے سوالات بھی ہیں جو پارلیمانی کمیٹی ارجت پٹیل سے پوچھ سکتی ہے۔ ذرائع کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ نوٹ بندی سے کسانوں پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بھی میٹنگ میں غور ہو گا اور ارجت پٹیل سے صورت حال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی نے آر بی آئی گورنر کو طلب کیا ہے اور نوٹ بندی، بینکوں کے این پی اے سے متعلق مسائل سمیت کئی سوالوں پر انھیں اپنی بات رکھنے کے لیے کہا تھا۔ ایک بار پھر آر بی آئی سربراہ سے نوٹ بندی کے اثرات اور کسانوں کی حالت پر سوال پوچھے جانے کے امکانات نظر آ رہے ہیں۔

Published: 27 Nov 2018, 9:08 AM