رنجی ٹرافی: تیز گیندباز محمد سراج کو سونپی گئی حیدرآباد کی کپتانی کی ذمہ داری

ایچ سی اے کی سینئر سلیکشن کمیٹی نے جمعہ کو رنجی ٹرافی 27-2026 سیزن کے لیے کپتان اور نائب کپتان کے انتخاب کے سلسلے میں میٹنگ کی، جس میں سراج کو کپتان اور چاما ملند کو نائب کپتان بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>محمد سراج، تصویر&nbsp;<a href="https://twitter.com/BCCI">@BCCI</a></p></div>
i

 ہندوستانی تیز گیند باز محمد سراج رنجی ٹرافی 27-2026 میں حیدرآباد ٹیم کی کپتانی کریں گے۔ حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن (ایچ سی اے) نے جمعہ (11 ستمبر) کو اس کا باضابطہ اعلان کیا۔ رنجی ٹرافی کے گروپ مرحلے کے مقابلے 11 اکتوبر سے شروع ہوں گے، حیدرآباد کا پہلا میچ تریپورہ کے ساتھ ہے۔ حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن کی سینئر سلیکشن کمیٹی نے جمعہ کو رنجی ٹرافی 27-2026 سیزن کے لیے کپتان اور نائب کپتان کے انتخاب کے سلسلے میں میٹنگ کی، جس میں محمد سراج کو کپتان اور چاما ملند کو نائب کپتان بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ محمد سراج نے حیدرآباد کے لیے 16-2015 رنجی ٹرافی سیزن میں فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا تھا۔ اگلے سیزن (17-2016) میں شاندار گیند بازی کرتے ہوئے انہوں نے اپنی شناخت بنائی۔ اس سیزن میں انہوں نے 41 وکٹیں حاصل کی تھیں اور وہ حیدرآباد ٹیم کے سب سے زیادہ وکٹ لینے والے گیند باز تھے۔ 32 سالہ محمد سراج ہندوستان کے لیے تینوں فارمیٹ میں کھیلتے ہیں۔ ایسے میں ان کی غیر موجودگی میں نائب کپتان مقرر کیے گئے ملند ٹیم کی کمان سنبھالیں گے۔ حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’محمد سراج کی غیر موجودگی میں چاما ملند کپتان کا کردار ادا کریں گے اور متعلقہ میچ/میچوں میں حیدرآباد ٹیم کی کپتانی کریں گے۔ سینئر سلیکشن کمیٹی کے اراکین نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا۔‘‘


قابل ذکر ہے کہ محمد سراج نے حال ہی میں ساؤتھ زون کے لیے دلیپ ٹرافی کا فائنل بھی کھیلا تھا، جس میں ان کی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ انہوں نے دونوں اننگز میں مجموعی طور پر 41 اوورز کرائے، لیکن صرف ایک وکٹ حاصل کر سکے۔ ان کی ٹیم کو فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے فائنل کے بعد کہا تھا کہ سری لنکا دورے سے قبل ملنے والے طویل وقفے نے ان کے رن اپ کی لے بگاڑ دی۔ ساتھ انہوں نے کہا تھا کہ میرا جسم طویل وقفے کو اچھی طرح برداشت نہیں کر پاتا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔