کیریئر کے بحران کے بعد ایشان کی یادگار واپسی، کپتانی میں 13 سال بعد دلیپ ٹرافی کا خطاب جیتا
ایشان کی قیادت میں ایسٹ زون نے فائنل میں ساؤتھ زون کو پہلی اننگ میں حاصل کی گئی برتری کی بنیاد پر شکست دیتے ہوئے 13 سال بعد دلیپ ٹرافی کا خطاب اپنے نام کیا۔

2023 میں ایشان کشن کے بین الاقوامی کیریئر کا گراف تیزی سے اوپر جا رہا تھا۔ ونڈے میں ڈبل سنچری اور ٹی-20 میں مسلسل شاندار کارکردگی کی بدولت ایشان نے ہندوستانی ٹیم میں اپنی جگہ پکی کر لی تھی۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف وہ اپنا ٹیسٹ ڈیبیو بھی کر چکے تھے۔ پھر اچانک ایشان نے ذاتی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے اپنا نام واپس لے لیا۔
بی سی سی آئی نے اسی دوران بین الاقوامی کرکٹروں کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ کو ترجیح دینے پر زور دیا، لیکن ایشان ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے میدان میں نہیں اترے۔ ایشان کا یہ رویہ بی سی سی آئی اور سلیکٹروں کو پسند نہیں آیا اور بلندیوں کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ایشان کا کیریئر اچانک زوال کی طرف جانے لگا۔ ایشان کو سنٹرل کنٹریکٹ سے باہر کر دیا گیا۔ اس کے بعد ہر فارمیٹ کی ٹیم سے بھی ان کی چھٹی ہو گئی۔ سلیکٹروں نے ایشان کا متبادل تلاش کرنا شروع کر دیا اور ہر کسی کو لگا کہ وکٹ کیپر بلے باز شاید ہی اب ہندوستانی ٹیم میں واپس لوٹ پائے گا۔
سلیکشن کے لیے ہونے والی میٹنگ میں ایشان کے نام پر بات تک ہونی بند ہو گئی۔ ان مشکل حالات میں بھی ایشان نے ہمت نہیں ہاری۔ مکمل طور پر تازہ دم ہونے کے بعد وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں واپس آئے۔ حالات آگے چیلنجنگ تھے اور راستہ انتہائی مشکل، لیکن ایشان نے لڑنے کا عزم کیا۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں ایشان کا بلا چلا اور انہیں سید مشتاق علی ٹورنامنٹ کے لیے جھارکھنڈ کی کپتانی سونپی گئی۔ ایشان جانتے تھے کہ سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کا یہی سنہرا موقع ہے۔
سید مشتاق علی ٹورنامنٹ میں ایشان کی کارکردگی زبردست رہی۔ ٹورنامنٹ میں کھیلے گئے 10 میچوں میں ایشان نے 57 کی اوسط اور 197 کے اسٹرائیک ریٹ سے کھیلتے ہوئے 517 رنز بنائے۔ بلے سے شاندار کارکردگی دکھانے کے ساتھ ساتھ ایشان کی کپتانی بھی عمدہ رہی اور وہ جھارکھنڈ کو خطاب دلانے میں کامیاب رہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ کی کارکردگی نے ان کے لیے ہندوستانی ٹیم کے دروازے ایک بار پھر کھول دیے۔ ایشان ہندوستانی ٹی-20 ٹیم میں واپس آئے اور نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں انہوں نے ایک سنچری اور ایک نصف سنچری لگاتے ہوئے ایک بار پھر اپنی صلاحیت ثابت کر دی۔ اس کے بعد ونڈے میں بھی وہ افغانستان کے خلاف سنچری بنانے میں کامیاب رہے۔ ٹی-20 ورلڈ کپ 2026 میں بھی ایشان کا بلا خوب چلا اور وہ ہندوستان کی جانب سے دوسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز رہے۔ انہوں نے 9 مقابلوں میں 193 کے اسٹرائیک ریٹ سے 317 رنز بنائے۔
ہندوستانی ٹیم میں جگہ پکی کرنے کے باوجود ایشان ڈومیسٹک کرکٹ کی اہمیت سمجھ چکے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ دلیپ ٹرافی میں کھیلنے اترے۔ ایشان کو ایسٹ زون کی کپتانی سونپی گئی اور وہ توقعات پر پوری طرح کھرے اترے۔ ایشان کی قیادت میں ایسٹ زون نے فائنل میں ساؤتھ زون کو پہلی اننگ میں حاصل کی گئی برتری کی بنیاد پر شکست دیتے ہوئے 13 سال بعد دلیپ ٹرافی کا خطاب اپنے نام کیا۔ فائنل میں ایشان نے پہلی اننگ میں 270 رنز کی ایسی اننگ کھیلی، جو تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے درج ہو گئی۔ خطابی مقابلے میں انہوں نے مجموعی طور پر 350 رنز بنائے۔
بلے بازی کے ساتھ ساتھ ایشان بطور کپتان بھی اپنی صلاحیت دکھا رہے ہیں۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایشان نے کپتان کی حیثیت سے گزشتہ 16 مقابلوں میں مسلسل جیت درج کی ہے۔ دلیپ ٹرافی میں ان کی کپتانی میں ایسٹ زون نے ایک بھی میچ گنوائے بغیر خطاب اپنے نام کیا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں کپتان ایشان کی فاتح مہم سال 2018 سے جاری ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
