رانچی طلباء مظاہرہ: ’ہندوستان کے عوام کو بیوقوف سمجھنا اور بنانا بند کیجئے‘، کانگریس کا مودی-شاہ پر حملہ
کے سی وینوگوپال نے کہا کہ ’’مغربی بنگال سے ٹرک میں بھر کر بی جے وائی ایم کے کچھ لڑکوں کو جھارکھنڈ بھیجا جا رہا ہے اور وہاں چل رہے طلباء کی غیر متشدد تحریک کو الگ رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘

بی جے پی پر اکثر ملک کا ماحول خراب کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں، خواہ وہ احتجاجی مظاہرے ہوں یا تشدد کے واقعات کو ہوا دینے کی بات ہو۔ اب جھارکھنڈ میں طلبا کے جاری احتجاجی مظاہروں کو بھی تشدد آمیز کرنے کا الزام بی جے پی پر عائد کیا جا رہا ہے۔ کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ غیر بی جے پی حکمراں ریاست جھارکھنڈ میں بی جے پی اپنے غنڈوں کو بھیج کر ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : رانچی میں طلبہ کے اسمبلی گھیراؤ سے بھی نہیں بنی بات!
اس سلسلے میں کانگریس جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کی ہے، جس میں تلخ انداز میں پی ایم مودی کے ساتھ ساتھ امت شاہ پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔ انھوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’نریندر مودی اور امت شاہ کی اوچھی سیاست کا ایک اور نمونہ دیکھئے۔ مغربی بنگال سے ٹرک میں بھر کر بی جے یو ایم (بھارتیہ جنتا یوا مورچہ) کے کچھ لڑکوں کو جھارکھنڈ بھیجا جا رہا ہے اور وہاں چل رہے طلباء کی غیر متشدد تحریک کو الگ رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے بی جے پی پر جھارکھنڈ کے رانچی میں جاری طلبا تحریک میں فرضی بھیڑ جمع کرنے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’انہیں (مودی-شاہ کو) لگتا ہے کہ اگر جھارکھنڈ کی طلباء تحریک میں فرضی بھیڑ بھیج کر اسے بڑا دکھایا گیا، تو ان کے خلاف جو عوامی غصہ پیدا ہوا تھا، وہ ختم ہو جائے گا۔‘‘ وہ حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے آگے لکھتے ہیں کہ ’’مودی جی، ہندوستان کے عوام کو بیوقوف سمجھنا اور بنانا بند کیجئے۔ گزشتہ مہینے جو کچھ ہوا، وہ صرف ٹریلر تھا۔‘‘
اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اور پی ایم مودی سے مخاطب ہوتے ہوئے کے سی وینوگوپال یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’نوجوانوں اور طلباء کو اچھی طرح پتہ ہے کہ ان کے مستقبل کو آپ نے اور آپ کی حکومت کی ناکام پالیسیوں نے برباد کر دیا ہے۔ اس لیے جھارکھنڈ کے نوجوانوں کے نام پر اپنا الو سیدھا کرنا بند کیجئے۔ اب اس ملک میں آپ کی ان سازشوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے اس پوسٹ کے ذریعہ بی جے پی کو ایک طرح سے متنبہ بھی کیا ہے کہ نوجوانوں اور طلبا کو گمراہ کرنے کی کوشش نہ کی جائے، کیونکہ اب نوجوانوں سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے۔
واضح رہے کہ جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں ’جے پی ایس سی‘ اور ’جے ایس ایس سی‘ امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف طلباء گزشتہ 25 جولائی سے احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ طلباء تحریک کا مقصد اور اہم مطالبات یہ ہیں کہ 14واں ’جے پی ایس سی‘ امتحان اور ’جے ایس سی سی جی ایل‘ امتحان و دیگر تقرریوں کے امتحانات میں ہوئی بے ضابطگیوں کی تحقیقات سی بی آئی اور ای ڈی سے کرائی جائے۔ گزشتہ روز 10 اگست کو پولیس نے طلباء پر لاٹھی بھی چارج کی تھی، جس کے بعد آج 11 اگست کو بی جے پی نے جھارکھنڈ بند کا اعلان کیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
