رانچی میں طلبہ کے اسمبلی گھیراؤ سے بھی نہیں بات!
جھارکھنڈ میںجے پی ایس سی تنازعہ پر طلبہ کا احتجاج سترویں دن بھی جاری رہا۔ حکومت نے طلباء سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی، ادھر بی جے پی نے جھارکھنڈ بند کا اعلان کر دیا ہے۔

جھارکھنڈ کے رانچی میں جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی امتحان تنازعہ کو لے کر طلبہ کا احتجاج سترویں دن بھی نہیں رکا۔ کل اسمبلی کے محاصرے کے دوران لاٹھی چارج کے بعد معاملہ مزید گرم ہو گیا۔ اب اس معاملے پر سیاست بھی تیز ہو گئی ہے۔ بی جے پی نے طلباء کے خلاف کارروائی کی مخالفت میں آج جھارکھنڈ بند کا اعلان کیا ہے۔
دن بھر کے واقعات کے درمیان وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے طلباء سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے کام کرے گی۔ دوسری جانب بی جے پی نے حکومت پر طلبہ کی آواز کو دبانے کا الزام لگایا۔
جے پی ایس سی کے سابق چیئرمین ایل کھیانگٹے کو سی آئی ڈی نے گرفتار کیا تھا۔ حکومت پہلے ہی تین امتحانات منسوخ کر چکی ہے اور ای ڈی کی جانچ کے لیے رضامندی بھی دے چکی ہے۔ اس کے باوجود طلبہ سی بی آئی جانچ کے مطالبے پر اٹل ہیں۔ ایسی صورت حال میں سوال صرف کارکردگی کا نہیں ہے بلکہ بھرتی کے پورے نظام میں پیدا ہونے والے اعتماد کا بھی ہے۔
جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی امتحان میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پیر کو طلبہ کی بڑی تعداد اسمبلی گھیراؤ کرنے پہنچی۔ پولیس نے انہیں بیریکیڈ پر روکنے کی کوشش کی لیکن بہت سے مظاہرین اسمبلی گیٹ تک پہنچ گئے۔ اس کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔ حالات کچھ دیر کے لیے اس قدر کشیدہ ہو گئے کہ اسمبلی کی کارروائی بھی متاثر ہوئی۔ بعد ازاں سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو وہاں سے ہٹا دیا۔ اس دوران کئی طلباء اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ دیر شام بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ لیڈر دیویندر ناتھ مہتو کی طبیعت بگڑ گئی جس کے بعد انہیں صدر اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
دن کے واقعات کے بعد وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے طلباء سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں طلباء کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا پورا حق ہے اور حکومت ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے سن رہی ہے۔ سورین نے پولیس اور انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالات کو تحمل سے نمٹا یا گیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سینئر وزراء طلباء سے مسلسل بات کر رہے ہیں۔ حکومت امتحانی نظام کو مزید شفاف، محفوظ اور جوابدہ بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔ تاہم وزیر اعلیٰ نے بعض اپوزیشن لیڈروں پر تحریک کو سیاسی رنگ دینے کا الزام لگایا۔
کانگریس کے سابق ایم ایل اے امبا پرساد نے کہا کہ جھارکھنڈ حکومت میں کانگریس کی شمولیت ہے، لیکن جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی گھوٹالے میں پارٹی کسی بھی طرح سے شامل نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس کا ماننا ہے کہ ان امتحانات میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور وہ طلبہ کی تحریک کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے طلباء پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔
حکومت پہلے ہی تین بھرتی امتحانات منسوخ کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ ان میں 14ویں جے پی ایس سی کمبائنڈ سول سروسز کا ابتدائی امتحان بھی شامل ہے۔ حکومت نے 14ویں جے پی ایس سی امتحان سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے ای ڈی کے مطالبے کو بھی قبول کر لیا ہے۔ تاہم طلبہ تنظیمیں اب بھی سی بی آئی انکوائری کے مطالبہ پر اٹل ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
