صحافی قتل معاملہ میں رام رحیم مجرم قرار، 17 جنوری کو ہوگا سزا کا اعلان

پنچکولہ میں سی بی آئی کورٹ نے صحافی رام چندر چھتر پتی قتل معاملہ میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے ڈیرا سچا سودا کے سربراہ رام رحیم سمیت 4 افراد کو قصوروار قرار دیا گیا ہے، سزا کا اعلان 17 جنوری کو ہوگا۔

قومی آوازبیورو

پنچکولہ: ڈیرا سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم کو ہریانہ کے پنچکولہ کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے قصوروار قرار دیا ہے۔ خصوصی عدالت نے اس معاملہ میں رام رحیم کے ساتھ تین دیگر ملزمان کو بھی قصوروار قرار دیا ہے۔ تمام قصورواروں کی سزاؤں کا اعلان 17 جنوری کو کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ سال 2002 میں 24 اکتوبر کو صحافی رام چندر چھترپتی پر حملہ ہوا تھا اور 21 نومبر 2002 کو دہلی کے ایک اسپتال میں ان کی موت ہو گئی تھی۔

رام رحیم کے خلاف سماعت کے پیش نظر جمعہ کے روز ہریانہ اور پنجاب کے کئی علاقوں میں سیکورٹی انتظامات پختہ کئے گئے تھے۔ ہریانہ کے پنچکولہ، سرسہ اور روہتک ضلع میں سیکورٹی کے خاص انتظامات کئے گئے تھے۔ یہاں نظم و نسق سے وابستہ کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لئے ریاست کی مسلح پولس کی کئی کمپنیاں، انسداد فساد پولس اور کمانڈو فورس کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔

غورطلب ہے کہ اگست 2017 کو رام رحیم کو سزا سنائے جانے کے دوران ہریانہ کے سرسہ اور پنچکولہ میں تشدد بھڑک گئی تھی، جس میں 40 سے زیادہ افراد کی موت ہو گئی تھی اور کئی افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ صحافی رام چندر چھترپتی قتل کا معاملہ تقریباً 16 سال پرانا ہے، جس میں رام رحیم اہم ملزم ہے۔ سال 2002 میں چھترپتی کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ چھترپتی نے اپنے اخبار ’پورا سچ‘ رام رحیم کے خلاف ایک خبر شائع کر دی تھی۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ رام راحیم کے ڈیرا سچا سودا میں کس طرح خواتین کا جنسی استحصال کیا جا رہا ہے۔ خبر شائع ہونے سے برہم ہو کر رام رحیم نے اپنے پیروکاروں کے ذریعہ ان کا قتل کرا دیا۔

صحافی رام چندر چھترپتی کے اہل خانہ نے رام رحیم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ بعد میں اس معاملہ کو سی بی آئی کے سپرد کر دیا گیا۔ سی بی آئی نے اس معاملہ میں 2007 میں چاج شیٹ داخل کر دی تھی۔