راجستھان: ’جے شری رام‘ نہ کہنے پر بزرگ مسلم ڈرائیور کے ساتھ مار پیٹ، پاکستان جانے کو کہا!

راجستھان کے سیکر میں 52 سالہ آٹو رکشہ ڈرائیور کو شرپسندوں نے بری طرح زد و کوب کیا اور ’مودی زندہ آباد‘ اور ’جے شری رام‘ بولنے پر مجبور کیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سیکر: راجستھان کے سیر میں ایک 52 سالہ آٹو رکشہ ڈرائیور غفار احمد کچاوا کو ’مودی زندہ آباد‘ اور ’جے شری رام‘ نہ بولنے پر بے رحمی سے پیٹا گیا۔ پولیس نے ہفتہ کے روز یہ اطلاع دی۔ متاثرہ ڈرائیور نے بتایا کہ ان پر حملہ کرنے والے دو لوگوں نے ان کی داڑھی کھینچی اور پاکستان جانے کو کہا۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، پولیس نے دونوں حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ غفار احمد کچاوا نے پولیس سے اپنی شکایت میں کہا کہ ملزمان نے ان کی گھڑی اور پیسے بھی چھین لئے۔ اس کے علاوہ انہیں اس قدر مارا پیٹا گیا کہ ان کے دانت ٹوٹ گئے اور آنکھ بھی سوج گئی۔

پولیس کی طرف سے درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق، جمعہ کو صبح 4 بجے متاثرہ نزدیکی گاؤں میں مسافروں کو چھوڑنے کے بعد لوٹ رہا تھا کہ ایک کارو میں سوار دو لوگوں نے انہیں روک لیا اور تمباکو مانگا۔ تاہم جب متاثرہ نے انہیں تمباکو پیش کیا تو حملہ آوروں نے لینے سے انکار کر دیا اور ’مودی زندہ آباد‘ کا لگانے کو کہا۔ ان کے انکار کرنے پر حملہ آوروں نے انہیں چھڑی سے پیٹا۔

کچاوا نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو بتایا، ’’دو لوگ گاڑی سے باہر آئے اور میری پٹائی شروع کر دی۔ انہوں نے مجھے تھپڑ مارا اور مجھے مودی زندہ آباد کہنے کے کو کہا۔ انہوں نے میری داڑھی بھی کھینچی۔‘‘ سیکر کے ایک سینئر پولیس افسر پشپندر سنگھ نے پی ٹی آئی کو بتایا، ’’شکائت درج ہونے کے بعد جمعہ کو دو لوگوں کو گرفتار کیا۔‘‘

ابتدائی جانچ سے معلوم چلا ہے کہ ملزمان نے حالت نشہ میں متاثرہ کی پٹائی کی۔ ملزمان کی شناخت شمبھو دیال جاٹ (35) اور راجندر جاٹ (30) کے طور پر ہوئی ہے۔ ایک اور پولیس افسر نے پی ٹی آئی کو بتایا، ’’دونوں ملزمان کو معاملہ درج کرنے کے چھ گھنٹے کے اندر پکڑا گیا ہے۔ متاثرہ کے ساتھ ملزمان کی بحث ہوئی جوکہ نشہ میں تھے۔ ملزمان نے ڈرائیور سے پیسے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔‘‘

Published: 9 Aug 2020, 10:39 AM
next