راجستھان: بی جے پی رکنِ اسمبلی کا بجٹ پر ’شرمناک‘ بیان، خواتین و سماجی تنظیموں کا کارروائی کا مطالبہ
راجستھان اسمبلی میں بی جے پی کے رکن نے بجٹ کا موازنہ ’چھورے‘ اور ’چھوری‘ کی پیدائش سے کیا جس پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ خواتین و سماجی تنظیموں نے اسے پدرانہ ذہنیت قرار دیتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا

جے پور: راجستھان اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکنِ اسمبلی بہادر سنگھ کولی کے ایک بیان پر سیاسی اور سماجی سطح پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ ان کے بیان کو خواتین مخالف اور پدرانہ سوچ کی عکاسی قرار دیتے ہوئے متعدد خواتین اور سماجی تنظیموں نے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بحث کے دوران بہادر سنگھ کولی نے موجودہ حکومت کے بجٹ کی تعریف کرتے ہوئے اس کا موازنہ ’چھورے (لڑکے) کی پیدائش‘ سے کیا، جبکہ سابق کانگریس حکومت کے آخری بجٹ کو ’چھوری (لڑکی) کی پیدائش‘ سے تشبیہ دی۔ ان کے اس تبصرے کے بعد ایوان میں بھی اعتراضات اٹھائے گئے اور اپوزیشن جماعت کانگریس نے اسے نامناسب قرار دیا۔
تنظیموں کی جانب سے اسمبلی کے اسپیکر واسودیو دیونانی کے نام ایک یادداشت پیش کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ رکنِ اسمبلی کی جانب سے دی گئی یہ مثالیں پدرانہ ذہنیت کی عکاس ہیں اور خواتین کی وقار کے منافی ہیں۔ یادداشت میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایوانِ اسمبلی جیسے باوقار مقام پر اس طرح کی تشبیہات دینا نہایت تشویش ناک ہے اور اس سے غلط سماجی پیغام جاتا ہے۔
بہادر سنگھ کولی نے بحث کے دوران کہا تھا کہ موجودہ حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں ’چھورا پیدا کیا‘، دوسرے بجٹ میں بھی ’چھورا پیدا کیا‘ اور تیسرے بجٹ میں بھی یہی تسلسل برقرار رکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو جوانی میں ’چھورا پیدا کرتا ہے‘ وہ ہمیشہ کام آتا ہے۔ ان کے اس بیان کو سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اپوزیشن کے قائد ٹیكارام جولی نے بھی ایوان میں اس تبصرے کی مذمت کرتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا۔ خواتین تنظیموں کی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ بیٹے کو ترجیح دینا اور بیٹیوں کو کمتر سمجھنا ملک کی ایک گہری سماجی برائی رہی ہے، جس کے باعث صنفی عدم توازن، بچیوں کے حقوق سے محرومی اور دیگر مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
یادداشت میں مزید کہا گیا ہے کہ جب کوئی منتخب نمائندہ ایسی سوچ کو سیاسی بیان بازی کا حصہ بناتا ہے تو اس سے معاشرے میں یہ تاثر جاتا ہے کہ یہ طرزِ فکر قابلِ قبول ہے۔ تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسمبلی میں خواتین کی عزت و وقار کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدام کیا جائے اور متعلقہ رکن کے خلاف کارروائی کی جائے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔