راجستھان: ٹرین میں آگ کی افواہ سے مچی بھگدڑ میں مسافروں کی موت پر اشوک گہلوت کا اظہار افسوس

ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر اشوک گہلوت نے ٹرین حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات رونما نہ ہوسکیں۔

اشوک گہلوت، تصویر ٹوئٹر @ashokgehlot51
i

راجستھان کے دھول پور میں محض افواہ کی بنا پر چمبل ندی کے قریب ایک دردناک ٹرین حادثہ ہوگیا۔ در اصل ٹرین میں آگ لگنے کی افواہ کے بعد مسافروں میں افرا تفری مچ گئی۔ گھبرائے ہوئے مسافر اپنی جان بچانے کے لیے ٹرین سے کودنے لگے تھے۔ اس دوران دوسری طرف سے آرہی ٹرین کی زد میں آکر 4 لوگوں کی جان چلی گئی۔ اس واردات کی اطلاع ملتے ہی ریلوے انتظامیہ اور پولیس کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ اس حادثے میں راجستھان کے بیکانیر کی ایک خاتون اور بچے سمیت 4 لوگوں کی موت ہوگئی۔ اس حادثے پر ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے اپنے رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔

اشوک گہلوت نے سوشل میڈیا پوسٹ میں متوفیوں کے لیے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ایک افواہ کی وجہ سے دھول پور کے قریب ہوئے ٹرین حادثے میں بیکانیر کی ایک خاتون اور بچے سمیت 4 لوگوں کی موت کی خبر انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا کہ ’’ریلوے کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات رونما نہ ہوسکیں، میری گہری تعزیت سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہے۔ ایشور سے دعا ہے کہ وہ متوفیوں کی روح کو سکون عطا فرمائے اور خاندانوں کو اس مشکل وقت میں طاقت اور صبر عطا کرے۔‘‘


اس واقعے پر ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔ راجستھان کانگریس کے صدر گووند ڈوٹاسرا نے بھی غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’’دھولپور کے قریب ٹرین میں آگ کی افواہ سے نیچے کودنے والے مسافروں کے دوسری ٹرین کی زد میں آنے سے ہوا سانحہ دل دہلا دینے والا ہے۔ حادثے میں بیکانیر کی خاتون اور ایک بچے سمیت 4 افراد کی موت انتہائی افسوسناک ہے۔‘‘

انہوں نے مزید لکھا کہ ’’متوفیوں کے اہل خانہ کے ساتھ میری گہری تعزیت ہے۔ ایشور مرنے والوں کی روح کو سکون اور خاندانوں کو طاقت دے۔‘‘ بتا دیں کہ اس واردات میں زخمی ہونے والوں کو پولیس انتظامیہ کے ذریعہ بہتر علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ یہ تمام متوفی آگرہ سے مرینا جارہی پاتال کوٹ ایکسپریس کی زد میں آ گئے جس سے موقع پر ہی 4 افراد کی موت ہو گئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔