پہلو خان موب لنچنگ: ایس آئی ٹی کی جانچ میں بڑا اِنکشاف، کئی ثبوت عدالت میں نہیں ہوئے پیش

ایس آئی ٹی نے اپنی جانچ میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پہلو خان کی پٹائی کے 2 ویڈیو سامنے آئے تھے۔ جس موبائل سے ویڈیو بنایا گیا تھا، اسے پولس نے ضبط تو کیا لیکن عدالت میں اسے پیش نہیں کیا گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

الور کے پہلو خان موب لنچنگ معاملہ میں سبھی ملزمین کے بری ہونے کے بعد دوبارہ اس معاملے کی جانچ کر رہی ایس آئی ٹی نے جانچ رپورٹ تیار کر لی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پیر کی شام کو ایس آئی ٹی کی ٹیم افسران کو پولس ہیڈکوارٹر میں جانچ رپورٹ سونپے گی۔ خبروں کے مطابق جانچ میں کئی حیران کرنے والی باتیں سامنے آئی ہیں۔

’امر اجالا‘ ویب سائٹ پر شائع رپورٹ کے مطابق ایس آئی ٹی کی ٹیم نے یہ مانا ہے کہ جس موبائل سے بھیڑ کے تشدد کا ویڈیو بنایا گیا تھا، اسے پولس نے ثبوت کے طور پر ضبط تو کیا تھا، لیکن اسے سرکاری وکیل نے ثبوت کے طور پر عدالت میں پیش نہیں کیا۔ رپورٹ کے مطابق ایس آئی ٹی نے اپنی جانچ میں اعتراف کیا ہے کہ پہلو خان کی پٹائی کے دو ویڈیو سامنے آئے تھے۔ ان میں سے ایک ویڈیو سب سے زیادہ وائرل ہوا تھا۔ ضبط کیا گیا موبائل ایس آئی ٹی کے مال خانہ سے برآمد کیا گیا تھا۔

ایس آئی ٹی نے اپنی جانچ میں یہ بھی پایا کہ جانچ افسران نے ویڈیو کی تصویریں بنا کر چارج شیٹ میں بطور ثبوت لگائیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان تصویروں کے بارے میں ایف ایس ایل سے سرٹیفکیٹ شامل ہی نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ یکم اپریل کو شام تقریباً 7 بجے پہلو خان سے مار پیٹ ہوئی تھی۔ اس کے بعد انھیں 7.50 بجے اسپتال لے جایا گیا تھا۔ پولس نے 11.50 بجے پہلو خان کا بیان درج کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق پہلو خان نے اپنے بیان میں کچھ لوگوں کے نام بتائے تھے۔ ان کے بیان کی بنیاد پر پولس نے 3 گھنٹے بعد کیس درج کیا تھا۔ عدالت میں اے ایم اور پی ایم کو لے کر غلط فہمی ہوئی تھی۔ اے پی پی معاملے کو صاف نہیں کر پائے تھے۔ جانچ افسر نے درج بیان کے مطابق نامزد ملزمین کو لے کر کیا جانچ کی، اسے لے کر عدالت میں ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔ اتنا ہی نہیں، ایف آئی آر میں نامزد ملزمین کی جگہ پر دوسرے لوگوں کو ملزم بنایا گیا۔

واضح رہے کہ ہریانہ کے نوح باشندہ پہلو خان اپنے بیٹوں کے ساتھ یکم اپریل 2017 کو جے پور سے گائے اور دیگر مویشی خرید کر اپنے گھر لے جا رہے تھے۔ اس دوران این ایچ-8 پر الور کے بہروڈ میں کچھ لوگوں نے پہلو خان کی گاڑی کو روک لیا اور گئو اسمگلنگ کا الزام لگاتے ہوئے ان کی پٹائی کر دی۔ حملے میں زخمی پہلو خان کو اسپتال میں علاج کے لیے داخل کرایا گیا۔ علاج کے دوران 4 اپریل کو ان کی موت ہو گئی تھی۔

اس معاملے کے سبھی ملزمین کو ثبوت نہیں ہونے کی وجہ سے اے ڈی جے عدالت نے ابھی کچھ دن پہلے ہی بری کر دیا تھا۔ اس کے بعد جانچ پر سوال کھڑے کیے گئے تھے۔ اس معاملے میں راجستھان کی گہلوت حکومت نے دوبارہ جانچ کے حکم دیئے تھے۔

Published: 2 Sep 2019, 4:10 PM