راجہ رگھوونشی قتل معاملہ: ملزم سونم رگھوونشی کو جانا ہوگا جیل، سپریم کورٹ نے ضمانت کی عرضی مسترد کی
سپریم کورٹ نے سونم رگھوونشی کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے 3 ہفتوں کے اندر خودسپردگی کا حکم دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں ’ہنی مون مرڈر کیس‘ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔

اندور کے مشہور راجا رگھوونشی قتل معاملے میں مرکزی ملزمہ اور ان کی اہلیہ سونم رگھوونشی کو سپریم کورٹ سے راحت نہیں ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے سونم رگھوونشی کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے 3 ہفتوں کے اندر خودسپردگی کا حکم دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں ’ہنی مون مرڈر کیس‘ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ راجا رگھوونشی، جو اندور کے ایک ٹرانسپورٹ کاروباری تھے، شادی کے کچھ ہی عرصے بعد ہنی مون کے دوران قتل کر دیے گئے تھے۔ تحقیقات کے دوران ان کی اہلیہ سونم رگھوونشی سمیت کئی افراد کو اس مقدمے میں ملزم بنایا گیا۔ اس کے بعد ہائی کورٹ سے دی گئی ضمانت کو چیلنج کرتے ہوئے میگھالیہ حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
سپریم کورٹ میں میگھالیہ حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ سونم کو ضمانت صرف ایک تکنیکی غلطی کی بنیاد پر دی گئی تھی۔ انہوں نے دلیل دی کہ گرفتاری سے متعلق دستاویز میں ایک قانونی دفعہ کا نمبر ٹائپ کرنے میں غلطی ہوئی تھی، جسے ضمانت کی بنیاد نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ریاستی حکومت نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر ضمانت برقرار رہی تو ملزمہ کے فرار ہونے کا خطرہ ہے۔ گزشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سونم رگھوونشی کے وکیل کے سامنے دو متبادل رکھے تھے۔ عدالت نے پوچھا تھا کہ کیا وہ اپنی خواہش سے خودسپردگی کریں گی یا پھر عدالت ان کی ضمانت منسوخ کرنے کا فیصلہ سنائے گی۔ آخری سماعت میں عدالت نے ضمانت منسوخ کرتے ہوئے سونم رگھوونشی کو 3 ہفتوں کے اندر خودسپردگی کا حکم دیا ہے۔
سونم رگھوونشی کے وکیل نے ضمانت برقرار رکھنے کی درخواست کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے میں کل 94 گواہ ہیں، لیکن اب تک صرف 4 گواہوں کے بیانات قلم بند ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے اور سونم کو سخت شرائط کے ساتھ ضمانت دی گئی تھی۔ دفاعی فریق کا کہنا تھا کہ وہ تمام شرائط پر عمل کر رہی ہیں اور ان کے فرار ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے ان دلیلوں کو قبول نہیں کیا اور ان کی ضمانت منسوخ کر دی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
