صرف 45 پیسے کا ریلوے انشورنس، ٹرین حادثے میں جان گنوانے والے مسافر کے اہل خانہ کو ملیں گے 10 لاکھ روپے

ڈسٹرکٹ کنزیومر کمیشن بھوپال نے انشورنس کمپنی کو 10 لاکھ روپے کی انشورنس رقم 7 فیصد سالانہ سود سمیت ادا کرنے کا حکم دیا۔ 2 ماہ کے اندر ادائیگی نہ کرنے پر 9 فیصد سود لاگو ہوگا۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کئی بار ریلوے ٹکٹ بک کرتے وقت لیا گیا ایک چھوٹا سا فیصلہ مستقبل میں اہل خانہ کے لیے بڑا سہارا بن جاتا ہے۔ مرینا ضلع کے ایک مسافر نے ٹکٹ بک کرتے وقت صرف 45 پیسے کا ٹریول انشورنس لیا تھا۔ انہیں شاید اندازہ بھی نہیں رہا ہوگا کہ یہ معمولی رقم ایک روز ان کے اہل خانہ کو 10 لاکھ روپے کا سہارا دے گی۔ حالانکہ اس کے لیے انہیں کافی مشقت کرنی پڑی۔ 5 سال طویل قانونی لڑائی کے بعد کنزیومر کمیشن نے انشورنس کمپنی کو ادائیگی کا حکم دیا ہے۔

مرینا کے رہنے والے روی کمار شرما نے 19 اکتوبر 2020 کو مرینا سے نظام الدین جانے لیے آن لائن ٹکٹ بک کیا تھا۔ ٹکٹ بکنگ کے دوران انہوں نے ٹریول انشورنس کا آپشن بھی منتخب کر لیا تھا۔ 21 اکتوبر کی رات تقریباً 3:20 بجے مرینا ریلوے اسٹیشن پر تیز بارش ہو رہی تھی۔ بجلی چلی جانے کی وجہ سے پلیٹ فارم پر اندھیرا تھا اور کوچ پوزیشن بتانے والا ڈسپلے بورڈ بھی بند پڑا تھا۔ جب روی اپنے مقررہ کوچ ڈی-1 تک پہنچے تو دروازہ بند ملا، دروازہ کھولنے کی کوشش کے دوران ٹرین اچانک چل پڑی۔ پائیدان پر چڑھتے وقت ان کا پیر پھسلا اور وہ ٹرین وہ پلیٹ فارم کے درمیان گر گئے۔ شدید طور پر زخمی روی کو اسپتال لے جایا گیا، لیکن ڈاکٹر انہیں نہیں بچا سکے۔


شوہر کی موت کے بعد ان کی اہلیہ منیشا شرما نے ’انشورنس کلیم‘ کا عمل شروع کیا، انہوں نے پوسٹ مارٹم رپورٹ، ڈیتھ سرٹیفکیٹ، ایف آئی آر اور دیگر ضروری دستاویزات جمع کرائیں۔ اس کے باوجود انشورنس کمپنی بار بار دستاویز ادھورے ہونے کا حوالہ دے کر ادائیگی میں تاخیر کرتی رہی۔ مہینوں سے سال گزر گئے لیکن کلیم (دعویٰ) کا عمل مکمل نہیں ہوا۔ آخرکار 30 دسمبر 2022 کو معاملہ ڈسٹرکٹ کنزیومر کمیشن بھوپال میں داخل کیا گیا۔

سماعت کے دوران کمیشن نے پایا کہ متوفی کے پاس درست ٹکٹ اور ایکٹیو ٹریول انشورنس تھا اور حادثہ سفر کے دوران پیش آیا تھا۔ کمیشن نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ضروری دستاویزات انشورنس کمپنی کے حوالے کی جا چکی تھی اور کمپنی اضافی دستاویزات طلب کرنے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکی۔ ادائیگی نہ کرنا خدمات میں کمی اور غیر منصفانہ تجارتی رویہ قرار دیا گیا۔


کمیشن نے بیمہ کمپنی کو 10 لاکھ روپے کی انشورنس رقم 7 فیصد سالانہ سود سمیت ادا کرنے کا حکم دیا۔ ساتھ ہی ذہنی، جسمانی اور معاشی نقصان کے معاوضے کے طور پر 10 ہزار روپے اور مقدمے کے اخراجات کے طور پر 5 ہزار روپے دینے کو کہا۔ 2 ماہ کے اندر ادائیگی نہ کرنے پر 9 فیصد سود لاگو ہوگا۔

متوفی کی اہلیہ منیشا شرما بتاتی ہیں کہ انتقال کے بعد 2 بیٹیاں، ایک بیٹے اور بزرگ ساس-سسر کی ذمہ داری ان پر آ گئی۔ سلائی کا کام کر انہوں نے خاندان کو سنبھالا۔ ان کا کہنا ہے کہ انصاف بھلے ہی دیر سے ملا، لیکن ملا ضرور۔ یہ معاملہ ہر ریل مسافر کے لیے ایک بڑا سبق ہے۔ ٹکٹ بک کرتے وقت 45-35 پیسے کا ٹریول انشورنس کسی ناگہانی صورتحال کے بعد اہل خانہ کے لیے لاکھوں کا سہارا بن سکتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔