لاک ڈاؤن میں ریلوے کا نکلا دم، ملازمین کی تنخواہ اور پنشن کے لیے بھی نہیں بچے پیسے!

کورونا بحران کے سبب تاریخ میں پہلی بار ٹرینوں کا چکہ جام ہونے سے ریلوے کی مالی حالت خستہ ہو گئی ہے۔ حالات ایسے پیدا ہو گئے ہیں کہ ریلوے کے پاس ملازمین کو پنشن دینے تک کے پیسے نہیں ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

ہندوستان میں کورونا بحران کے سبب تاریخ میں پہلی بار ریلوے کا چکہ جام ہو گیا۔ اس چکہ جام کا منفی اثر کچھ ایسا پڑا ہے کہ ریلوے کے پاس اب اپنے ملازمین اور افسران کی تنخواہ اور پنشن دینے لائق بھی پیسے نہیں بچے ہیں۔ خبروں کے مطابق خستہ حالی کے پیش نظر وزارت ریل نے وزارت مالیات کو ایک خط لکھا ہے جس سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

میڈیا ذرائع میں آ رہی خبروں کے مطابق ریلوے نے یہ قدم موجودہ مالی سال میں سبکدوش ہوئے سبھی ملازمین و افسران کو پنشن دینے کے لیے اٹھایا ہے۔ اندازہ ہے کہ ریلوے کو مالی سال 21-2020 میں 53 ہزار کروڑ روپے پنشن کے طور پر دینا ہے۔ لیکن لاک ڈاؤن کے سبب ٹرینوں کا چلنا پوری طرح سے بند ہونے کے سبب آمدنی ایک طرح سے ٹھپ ہو گئی ہے۔ حال ہی میں کچھ اسپیشل ٹرین اور مال گاڑی کا چلنا ضرور شروع ہوا ہے، لیکن اس سے اتنی آمدنی نہیں ہو رہی۔ یہی سبب ہے کہ ریلوے نے اب وزارت مالیات کے سامنے اپنی پریشانی رکھی ہے۔

ریلوے کا ماننا ہے کہ ان مالی رخنات کے طویل مدت تک جاری رہنے کی وجہ سے آگے ملازمین کو وقت پر تنخواہ دینے میں بھی پریشانی آ سکتی ہے۔ ویسے تو ریلوے ایک سرکاری محکمہ ہے، لیکن ریلوے کو اپنے ملازمین کو پنشن اپنے فنڈ سے دینا ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریلوے کے پاس اس وقت 13 لاکھ ملازمین اور افسران ہیں۔

خبروں میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ گزشتہ سال بھی ریلوے کے پنشن فنڈ میں 53 ہزار کروڑ روپے کی پوری ادائیگی نہیں ہوئی تھی، جس کی وجہ سے اس فنڈ میں منفی کلوزنگ بیلنس تھا۔ ذرائع کے مطابق ریلوے نے وزیر اعظم دفتر کی جانب سے حال میں بلائی گئی ایک جائزہ میٹنگ میں بھی اس بات کو سامنے رکھا تھا۔

Published: 29 Jul 2020, 9:11 AM
next