ہاتھرس معاملہ: غنڈہ راج میں وردی کی غندہ گردی، متاثرین کا لگاتار استحصال ناقابل برداشت

راہل گاندھی نے ٹوئٹ کے ساتھ ایک ہندی اخبار کی خبر کو شیئر کیا ہے، جس میں پی یو سی ایل کی رپورٹ کے حوالہ سے کہا گیا ہے کہ ہاتھرس کے متاثرین کو تحفظ نہیں دیا جا رہا ہے اور اس کے ذمہ دار افسران ہیں

راہل گاندھی، تصویر آئی این سی ڈہلی
راہل گاندھی، تصویر آئی این سی ڈہلی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: اترپردیش کے ہاتھرس میں دلت لڑکی کی عصمت دری اور موت کے معاملے پر کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے حکومت اور پولیس پر حملہ کیا ہے۔ راہل گاندھی نے متاثرین کو تحفظ فراہم نہ کئے جانے کو غنڈہ راج میں وردی کی غنڈہ گردی کی ایک اور مثال قرار دیا ہے۔

راہل گاندھی نے ٹویٹ کیا ، "یوپی میں حکومت کے ہاتھوں متاثرین کا لگاتار استحصال ناقابل برداشت ہے۔ ہاتھرس عصمت دری اور قتل کے معاملے میں، پورا ملک حکومت سے جواب طلب کر رہا ہے اور متاثرہ کنبہ کے ساتھ ہے۔ غنڈہ راج میں وردی کی غنڈہ گردی کی ایک اور مثال۔‘‘

راہل گاندھی نے اپنے ٹویٹ کے ساتھ ایک اخبار کی خبر کو بھی شیئر کیا ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پی یو سی ایل یعنی پیپلز یونین فار سول لبرٹیز کی رپورٹ کے حوالہ سے کہا گیا ہے کہ سی آر پی ایف کی تعیناتی سے متاثرین کے لئے فوری راحت تو فراہم ہوئی ہے لیکن وہ محفوظ نہیں ہیں۔

پی یو سی ایل نے ہاتھرس کے واقعے سے متعلق 16 صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے۔ اپنی رپورٹ میں پی یو سی ایل کی تحقیقاتی کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ متاثرہ خاتون کو بہتر علاج کے نام پر علی گڑھ سے دہلی بھیجنا ایک سازش کا حصہ تھا۔ متاثرہ لڑکی علی گڑھ کے سرکاری اسپتال میں صحتیاب ہو رہی تھی لیکن اچانک اسے دہلی روانہ کیا گیا اور اس کی حالت خراب ہونے کے بعد موت نے سوالات کو جنم دیا۔

انکوائری کمیٹی نے کہا کہ پی ایف آئی کا کنکشن معاملے کو الجھانے کی کوشش ہے۔ جیل سے ملزم کا وائرل خط، گاؤں میں پولیس، دبنگ ملزمان اور مقامی انتظامیہ کی ملی بھگت سے اس معاملے کو محبت کے معاملے میں بدلنے کی کوشش کا ایک حصہ تھا۔

    next