نیٹ-یو جی تنازعہ پر راہل گاندھی کا حملہ، کہا- ’22 لاکھ طلبہ کا مستقبل داؤ پر، وزیر اعظم خاموش‘
نیٹ۔یو جی تنازعہ پر راہل گاندھی نے حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ این ایس یو آئی کے احتجاج کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے انہوں نے تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے نیٹ۔یو جی 2026 امتحان تنازعہ کو لے کر مرکزی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ ایک بار پھر دہرایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جب تک پرچہ لیک کے واقعات کو روکنے کے لیے مکمل طور پر محفوظ نظام تیار نہیں کیا جاتا، کانگریس اپنی تحریک جاری رکھے گی۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے اپنی بات رکھی۔ انہوں نے کانگریس کی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا یعنی این ایس یو آئی کے احتجاج کی ویڈیو کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں نوجوان سڑکوں پر ہیں اور 22 لاکھ طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے لیکن وزیر اعظم اس معاملے پر خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جواب دینے کے بجائے ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ جب تک دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے اور پرچہ لیک جیسے معاملات کو روکنے کے لیے مضبوط اور قابل اعتماد نظام نہیں بنایا جاتا، کانگریس اپنی تحریک جاری رکھے گی۔ انہوں نے امتحانی نظام میں شفافیت اور طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کو اہم قرار دیا۔
کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی کی جانب سے نیٹ-یو جی تنازعہ کے خلاف مختلف مقامات پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔ این ایس یو آئی اس معاملے میں مسلسل مرکزی حکومت کو نشانہ بنا رہی ہے۔ تنظیم کا الزام ہے کہ امتحانی نظام میں بار بار سامنے آنے والی بے ضابطگیوں سے طلبہ کا اعتماد متاثر ہوا ہے۔
این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکڑ نے کہا کہ مرکزی حکومت پرچہ لیک جیسے معاملات کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نوجوانوں کے مستقبل سے جڑے اہم معاملے میں سنجیدگی نہیں دکھائی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان خود کو نظر انداز محسوس کر رہے ہیں، اسی لیے وہ اپنی آواز اٹھا رہے ہیں۔
ونود جاکڑ نے مرکزی وزیر تعلیم سے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ اور مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کرانے کی مانگ کی۔
ادھر نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی یعنی این ٹی اے نے اس تنازعہ پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورا پرچہ لیک نہیں ہوا تھا بلکہ چند سوالات امتحان سے پہلے باہر آنے کی بات سامنے آئی تھی۔ این ٹی اے حکام نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ امتحانی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کئی اصلاحات پہلے ہی نافذ کی جا چکی ہیں جبکہ مزید اقدامات پر کام جاری ہے۔ حکام نے کہا کہ معاملہ این ٹی اے کے نظام سے نہیں ہوا تھا۔ اس معاملے کی جانچ اس وقت مرکزی جانچ بیورو کر رہا ہے۔
مرکزی حکومت اس سے پہلے 3 مئی کو منعقد ہونے والا نیٹ-یو جی 2026 امتحان منسوخ کر چکی ہے۔ حکومت کے مطابق اب دوبارہ امتحان 21 جون کو منعقد ہوگا۔ اس امتحان میں 22 لاکھ سے زیادہ طلبہ شریک ہوئے تھے۔ ساتھ ہی آئندہ برسوں میں امتحان کو کمپیوٹر پر مبنی نظام کے تحت کرانے کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاکہ مستقبل میں ایسے تنازعات کو روکا جا سکے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
