کوٹا میں راہل گاندھی کا تعلیمی نظام پر سخت حملہ، کہا- ’یہ طلبہ کے خواب پورے نہیں بلکہ انہیں مسترد کرنے کا نظام ہے‘
کوٹا میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے نیٹ پرچہ لیک، مہنگی کوچنگ، محدود مواقع اور بے روزگاری کو تعلیمی نظام کی بڑی خامیاں قرار دیا اور اصلاحات کا مطالبہ کیا

راجستھان کے شہر کوٹا میں طلبہ کے ساتھ ایک خصوصی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ہندوستان کے موجودہ تعلیمی نظام، امتحانی ڈھانچے اور روزگار کے بحران پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام سیاسی نہیں بلکہ نوجوانوں کے مستقبل اور ان کے مسائل پر بات چیت کے لیے منعقد کیا گیا ہے اور اس کا مقصد طلبہ کی آواز کو سامنے لانا ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ اپنی بھارت جوڑو یاترا کے دوران انہوں نے ملک بھر میں ہزاروں نوجوانوں سے ملاقات کی اور ان سے ان کے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں سوالات کیے۔ ان کے مطابق زیادہ تر نوجوانوں کے جواب چند مخصوص پیشوں تک محدود تھے، جن میں ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، سول سروس اور مسلح افواج شامل تھیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہندوستان کا تعلیمی نظام نوجوانوں کو صرف چند راستوں تک کیوں محدود کر دیتا ہے جبکہ ان میں سے بہت سے نوجوان درحقیقت مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتیں آزمانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کے اصل خوابوں اور دلچسپیوں کو اہمیت نہیں دیتا۔ راہل گاندھی نے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب چند طالبات کو پہلی بار ہیلی کاپٹر میں سفر کا موقع ملا تو ان میں سے کئی نے پائلٹ بننے کی خواہش ظاہر کی، حالانکہ اس سے پہلے کسی نے یہ خواب بیان نہیں کیا تھا۔ ان کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوانوں کو مختلف امکانات سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے۔
خطاب کے دوران راہل گاندھی نے آکانکشا نامی طالبہ کا ذکر بھی کیا جو ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ پرچہ لیک ہونے اور دیگر مشکلات کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی اور اپنی جان دے دی۔ راہل گاندھی نے اس واقعے کو تعلیمی نظام کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو ایسی صورتحال سے دوچار نہیں ہونا چاہیے جہاں وہ اپنے مستقبل کے بارے میں شدید مایوسی محسوس کریں۔
بعد ازاں پروگرام میں موجود طلبہ کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا جنہوں نے نیٹ، جے ای ای اور سول سروس امتحانات کی تیاری کے دوران درپیش مشکلات بیان کیں۔ طلبہ نے کہا کہ امتحانات کی تیاری میں کئی سال اور لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں، لیکن کامیابی کے امکانات انتہائی محدود ہیں۔ بعض طلبہ نے بتایا کہ کوچنگ، رہائش، کتابوں اور دیگر اخراجات پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔
راہل گاندھی نے کہا کہ متوسط اور غریب خاندان اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے قرض لینے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صرف نیٹ امتحان کی تیاری اور اس سے جڑے اخراجات کے ذریعے ہر سال خاندانوں سے بھاری رقم خرچ ہوتی ہے، جبکہ ملک کے پانچ بڑے امتحانات کے گرد قائم نظام والدین پر غیر معمولی مالی دباؤ ڈالتا ہے۔
پروگرام کے دوران ایک طالبہ اور اس کے والدین نے بھی اپنے تجربات بیان کیے۔ طالبہ کے والد نے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کے خواب پورے کرنے کے لیے ہر ممکن قربانی دینے کو تیار ہیں۔ اس پر راہل گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کو تعلیم اور بہتر مواقع فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس بوجھ کو صرف والدین پر نہیں ڈالا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ تعلیمی ڈھانچہ دراصل ایک ایسا نظام بن چکا ہے جو طلبہ اور ان کے خاندانوں سے مسلسل رقم وصول کرتا ہے، مگر اس کے بدلے مناسب مواقع فراہم نہیں کرتا۔ ان کے مطابق اسکول، کوچنگ، ٹیوشن، امتحانات اور دیگر مراحل میں بھاری اخراجات کے باوجود بیشتر نوجوان مطلوبہ اداروں یا ملازمتوں تک نہیں پہنچ پاتے۔
روزگار کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی بڑی تعداد میں نوجوان مستقل ملازمتوں سے محروم رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں طلبہ برسوں کی محنت اور مالی قربانیوں کے بعد بھی غیر یقینی مستقبل کا سامنا کرتے ہیں، جس سے مایوسی اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔
خطاب کے اختتام پر راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کو ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کو بڑے خواب دیکھنے، اپنی پسند کے شعبوں کا انتخاب کرنے اور کم سے کم مالی بوجھ کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرے۔ انہوں نے طلبہ سے تجاویز طلب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے ایک وسیع عوامی مکالمے اور اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو بہتر اور منصفانہ مواقع میسر آ سکیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
