کاش کورونا حکمت عملی ہی ’من کی بات‘ ہوتی، راہل گاندھی کا پی ایم مودی پر طنز

راہل گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا، ’’سوال تو جائز ہے لیکن حکومت کے جواب کا ہندوستان کب تک انظار کرتے گا؟‘‘

راہل گاندھی، تصویر / Getty Images
راہل گاندھی، تصویر / Getty Images
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: ملک میں کورونا وائرس کے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی لگاتار کورونا کی وبا کے حوالہ سے نشانہ لگا رہے ہیں اور ان کا الزام ہے کہ حکومت خاطر خواہ اقدام نہیں اٹھا رہے ہیں۔

دراصل، خوراک کی پیداوار کے معاملے میں دنیا کی سب سے بڑی ویکسین کمپنی سیرم انسٹی ٹیوٹ کے اعلی عہدیدار نے حکومت سے کہا کہ ملک میں کورونا ویکسین سب کے لئے دستیاب کرنے کے لئے 80000 کروڑ روپے کی ضرورت ہے، کیا حکومت کے پاس اتنی رقم موجود ہے؟ راہل گاندھی نے اسی ضمن میں وزیر اعظم مودی پر طنز کیا ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور سابق صدر راہل گاندھی نے اتوار کے روز اپنے ٹویٹ میں لکھا، ’’سوال جائز ہے لیکن ہندوستان کب تک حکومت کے جواب کا انتظار کرے گا؟ کاش کہ کوویڈ کے حوالہ سے حکمت عملی ہی من کی بات ہوتی۔‘‘

واضح رہے کہ سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے سی ای او ادار پوناوالا نے ہفتے کے روز حکومت کے سامنے ایک بڑا سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا، "کیا حکومت ہند کے پاس اگلے ایک سال میں 80000 کروڑ روپئے موجود ہوں گے؟ کیوں کہ وزارت صحت اور خاندانی بہبود کو ہندوستان میں ہر ایک کے لئے ویکسین خریدنے اور تقسیم کرنے کے لئے اتنی ہی رقم کی ضرورت ہے۔" پوناوالا نے وزیر اعظم کے دفتر کو ٹیگ کیا اور لکھا، ’’یہ اگلا چیلنج ہے جس کا ہمیں سامنا کرنا ہوگا۔"

    next