لوک سبھا میں راہل گاندھی کی تقریر، ہند-امریکہ ڈیل پر سخت تنقید، کہا- ’ہم نے اپنی عوام کو امریکہ کے ہاتھوں بیچ دیا‘
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بجٹ اجلاس کے دوران امریکہ سے معاہدے پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام کو امریکہ کے ہاتھوں بیچ دیا اور دنیا عدم استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے

ہند-امریکہ ڈیل وزیر اعظم مودی کا مکمل سرینڈر ہے: راہل گاندھی
لوک سبھا میں اپنی تقریر کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ ایک مخصوص کاروباری شخصیت کا نام ایپسٹین فائل میں موجود ہے، ان پر فوجداری الزامات ہیں مگر انہیں جیل نہیں ہوئی۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ کوئی بھی ہندوستانی وزیر اعظم، وزیر اعظم مودی سمیت، ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کرتا جب تک وہ چوک میں نہ ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان نے ڈیٹا حوالے کر دیا اور کسانوں کو امریکی کمپنیوں کے سامنے کھڑا کر دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ مکمل سرینڈر ہے، جو صرف وزیر اعظم کا نہیں بلکہ 140 کروڑ عوام کا سرینڈر ہے۔
ایپسٹین فائل اور اڈانی کا ذکر، ایوان میں ہنگامہ
لوک سبھا میں راہل گاندھی نے حکومت پر حملہ تیز کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکہ ہمارے فیصلے کیسے طے کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ امریکہ کے لیے کھول دیا گیا مگر کسانوں کے مفادات کا خیال نہیں رکھا گیا۔ ان کے مطابق امریکہ کا ٹیرف تین فیصد سے بڑھ کر اٹھارہ فیصد ہو گیا اور حکومت خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی آنکھوں میں خوف دکھائی دیتا ہے اور اس کی دو وجوہات ہیں، جن میں ایک ایپسٹین فائل کا معاملہ ہے۔
راہل گاندھی نے دفاعی بجٹ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس پر چوک نظر آتی ہے اور اس کا تعلق مسٹر اڈانی سے ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اڈانی کی کمپنی پر امریکہ میں مقدمہ ہے اور اصل نشانہ وزیر اعظم ہیں۔ اس بیان پر روی شنکر پرساد اور کیرن ریجیجو نے سخت اعتراض کیا اور غلط بیانی کا الزام لگایا۔ راہل گاندھی نے انیل امبانی اور ہردیپ پوری کا بھی ذکر کیا، جس پر ایوان میں ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔
کیا اب امریکہ طے کرے گا ہم کہاں سے تیل خریدیں؟ راہل گاندھی کا سوال
لوک سبھا میں راہل گاندھی نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ہندوستان کے عوام کے پاس دنیا کا سب سے بڑا ڈیٹا ذخیرہ ہے اور اس کی حفاظت سب سے اہم مسئلہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہندوستانی عوام کی صلاحیت اور سوچ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور امریکہ و چین دونوں کی نظر ہمارے ڈیٹا پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش اگر ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کرتا ہے تو اسے زیرو ٹیرف ملتا ہے، جس سے ہماری ٹیکسٹائل صنعت متاثر ہوئی، جبکہ امریکی برآمدات میں اضافہ ہوا مگر ہمیں کیا ملا؟
راہل گاندھی نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ٹیرف بڑھا دیا۔ اب کیا امریکہ طے کرے گا کہ ہم کہاں سے تیل خریدیں؟ ایسا کسی وزیر اعظم نے نہیں کیا۔ ان کے مطابق اگر امریکہ یہ کہتا ہے کہ آپ فلاں ملک سے تیل نہیں خرید سکتے تو یہ توانائی شعبے کا ہتھیار بنانا ہے۔ اسی طرح ٹیرف میں اضافہ مالیاتی شعبے کے ویپنائزیشن کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس پر شرم آنی چاہیے۔
ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت پر راہل گاندھی کا سوال
لوک سبھا میں راہل گاندھی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ایک خطرناک عالمی منظرنامہ پیش کر رہی ہے اور 140 کروڑ عوام کے سامنے نیا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر اور توانائی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، مگر بجٹ میں ان اہم امور کے لیے کوئی واضح انتظام نہیں۔ ان کے مطابق اگر صدر ٹرمپ سے مذاکرات ہوتے تو سب سے پہلے ڈیٹا کے تحفظ کی بات کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو ڈالر بچانے کے لیے ہندوستانی ڈیٹا درکار ہے، اس لیے قومی مفادات کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
جنگ کے دور سے متعلق بیان پر سوال، بجٹ کو قرار دیا مایوس کن
تقریر کے دوران راہل گاندھی نے وزیر اعظم اور قومی سلامتی کے مشیر کے اس بیان پر بھی سوال اٹھایا جس میں کہا گیا تھا کہ جنگ کا دور ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات اس کے برعکس اشارہ دیتے ہیں اور دنیا ایک نئے تنازعاتی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ایک سپر پاور کی دنیا تبدیل ہو رہی ہے اور ڈالر کی بالادستی کو بھی چیلنج درپیش ہے، جس سے عالمی نظام مزید غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ایسے حالات میں پیش کیا گیا بجٹ عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترتا۔ انہوں نے اسے مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں روزگار، معیشت اور سماجی تحفظ کے حوالے سے کوئی بڑی سمت نظر نہیں آتی۔
اقتصادی سروے کا حوالہ، عالمی سیاست میں عدم استحکام کا خدشہ
راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں اقتصادی سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت شدید جیو پولیٹیکل کشمکش کے دور سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی عالمی بالادستی کو چین، روس اور دیگر طاقتیں چیلنج کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی نظام غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق توانائی اور مالیاتی نظام کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے ممالک کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا استحکام سے عدم استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے اور یہ تبدیلی اقتصادی اور سیاسی سطح پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ راہل گاندھی نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اقتصادی سروے میں بھی اسی طرح کی غیر یقینی صورت حال کا ذکر کیا گیا ہے۔
ہند-امریکہ ڈیل پر سخت حملہ
اپنی تقریر کے دوران راہل گاندھی نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایسے فیصلے کیے ہیں جن سے عام عوام کے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی بھی معاہدے میں طاقت کا توازن برابر نہ ہو تو اس کا نقصان کمزور فریق کو اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم نے اپنی عوام کو امریکہ کے ہاتھوں بیچ دیا، جو ایک سنگین معاملہ ہے۔ راہل گاندھی نے مطالبہ کیا کہ ایسے بین الاقوامی معاہدوں کی مکمل تفصیلات ایوان کے سامنے رکھی جائیں تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ کن شرائط پر فیصلے کیے گئے۔ ان کے مطابق قومی خودمختاری اور اقتصادی آزادی پر کسی بھی طرح کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔
راہل گاندھی نے مارشل آرٹ کی مثال سے کیا تقریر کا آغاز
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بجٹ اجلاس کے دوران اپنی تقریر کا آغاز غیر روایتی انداز میں کیا اور مارشل آرٹ کی مثال پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ مارشل آرٹ کی بنیاد گرفت سے شروع ہوتی ہے اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ حریف کو چوک کے ذریعے اس مقام تک لے جایا جائے جہاں وہ بے بس ہو جائے۔ ان کے مطابق جب کسی کھلاڑی کو مکمل گرفت حاصل ہو جاتی ہے تو یہ بات اس کی آنکھوں میں نظر آتی ہے اور مقابل بھی سمجھ جاتا ہے کہ اب بچ نکلنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں بھی اسی طرح کی گرفت کام کرتی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں یہ گرفت دکھائی نہیں دیتی۔ راہل گاندھی نے اشارہ دیا کہ موجودہ حالات میں یہ جاننا ضروری ہے کہ کس کے ہاتھ میں طاقت کی اصل گرفت ہے اور کون کس کو جکڑ رہا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔