راہل گاندھی کا ’جن نائگن‘ کے دفاع میں بیان، وزیر اعظم مودی پر تمل ثقافت پر حملے کا الزام
تمل ناڈو میں موجود راہل گاندھی نے فلم ’جن نائگن‘ کو روکنے کی کوشش پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمل ثقافت اور عوامی آواز کو دبانے کی کوشش ہے، جس میں حکومت کبھی کامیاب نہیں ہوگی

لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے فلم ’جن نائگن‘ سے متعلق پیدا ہونے والے تنازعہ پر سخت ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے روکنے کی کوشش تمل ثقافت اور تمل عوام کی آواز پر حملہ ہے۔ تمل ناڈو کے دورے پر موجود راہل گاندھی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں وزیر اعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمل عوام کی آواز کو دبانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
راہل گاندھی کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تمل سماج میں ثقافتی شناخت، اظہارِ رائے کی آزادی اور تخلیقی خود مختاری کے سوال پر بحث تیز ہے۔ کانگریس ذرائع کے مطابق راہل گاندھی نے اس معاملے کو محض ایک فلم تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے تمل زبان، ثقافت اور عوامی جذبات سے جوڑ کر پیش کیا، جس سے ان کے بیان کو خاص سیاسی اور سماجی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ فلم ’جن نائگن‘ کی نمائش سے قبل اس پر پابندی اور نمائش روکنے سے متعلق معاملات سامنے آئے تھے، جس کے بعد یہ معاملہ عدالتوں تک پہنچا۔ مختلف فریقوں کی جانب سے قانونی اپیلیں دائر کی گئیں اور فلم کی ریلیز کو لے کر عدالتی سطح پر بحث ہوئی، جس کے باعث یہ تنازعہ فلمی دنیا سے نکل کر اظہارِ رائے اور ثقافتی آزادی کے وسیع تر سوال سے جڑ گیا۔
راہل گاندھی اس وقت تمل ناڈو میں ہیں اور گڈالور میں سینٹ تھامس انگلش ہائی اسکول کی گولڈن جوبلی تقریبات میں شرکت سے قبل بھی انہوں نے ایک پیغام میں نوجوانوں سے مکالمے اور خیالات کے تبادلے کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اور ذہین ذہنوں کے ساتھ وقت گزارنا ہمیشہ خوشی کا باعث ہوتا ہے اور وہ طلبہ کے ساتھ مستقبل کے ہندوستان پر سوال اٹھانے، خواب دیکھنے اور گفتگو کرنے کے خواہاں ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ’جن نائگن‘ کے حق میں راہل گاندھی کا بیان محض ایک ثقافتی حمایت تک محدود نہیں سمجھا جا رہا۔ فلم کے مرکزی کردار وجے، جو حالیہ عرصے میں تمل ناڈو کی سیاست میں ایک الگ شناخت کے ساتھ سامنے آئے ہیں، اس تناظر میں یہ بیان مزید معنی خیز ہو جاتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی نے براہِ راست کسی سیاسی اشارے کے بغیر، ثقافت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایک وسیع پیغام دیا ہے، جسے تمل ناڈو کی بدلتی ہوئی سیاسی فضا میں مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ کانگریس حلقوں کا ماننا ہے کہ تمل ثقافت اور اظہارِ رائے کے دفاع پر مبنی یہ موقف نہ صرف ریاستی سطح پر بلکہ قومی سیاست میں بھی ایک واضح پیغام دیتا ہے۔