نریندر مودی کے پروگرام میں سوال ہی نہیں، جواب بھی طے شدہ ہوتے ہیں!

وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک تقریب میں ایک سوال کے جواب میں جو کہا اور اس کے بعد مترجم نے اس کا جو ترجمہ کیا اسے سن کر زیادہ تر لوگ یہی کہہ رہے ہیں کہ اس تقریب کے سوال و جواب پہلے سے طے تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کانگریس سربراہ راہل گاندھی نے ٹوئٹر پر وزیر اعظم نریندر مودی کا ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے انھیں زبردست طریقے سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ راہل گاندھی نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ’’پہلے ہندوستانی وزیر اعظم جو ’چنندہ‘ سوال کا جواب دیتے ہیں، جس کا پہلے سے طے شدہ جواب مترجم کے پاس ہوتا ہے!‘‘

راہل گاندھی نے مزید لکھا ہے کہ ’’اچھا ہے کہ وہ حقیقی سوالات نہیں لیتے۔ اگر وہ لیتے تو ہم سب کو بہت شرمندگی اٹھانی پڑتی۔‘‘

دراصل راہل گاندھی گزشتہ دنوں وزیر اعظم مودی کی سنگاپور سفر کے دوران وہاں کی نانیانگ ٹیکنیکل یونیورسٹی کے صدر اور طلبا سے ہوئی ان کی بات چیت کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ بات چیت میں وزیر اعظم نریندر مودی سوالوں کے جواب ہندی میں دے رہے تھے اور ایک خاتون مترجم ان کے جوابوں کا ترجمہ کر رہی تھیں۔ راہل گاندھی نے اسی کا ویڈیو شیئر کیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اس تقریب میں ایک سوال کے جواب میں جو کہا اور اس کے بعد مترجم نے اس کا جو ترجمہ کیا اسے سن کر زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ سوال اور جواب پہلے سے طے شدہ تھے۔ بات کچھ یوں ہے کہ وزیر اعظم مودی نے ایک سوال کا مختصر جواب دیا تھا، لیکن مترجم نے اس جواب کا طویل ترجمہ کر دیا اور کئی ایسی باتیں بھی کہہ ڈالیں جو وزیر اعظم مودی نے کہی بھی نہیں تھی۔

جس انداز میں مترجم نے جواب دیا، اسے دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ انھوں نے ایسا کسی غلطی کے سبب کیا تھا۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے مترجم کو روکا تک نہیں۔ ایک سوال یہ بھی کھڑا ہوتا ہے کہ ہندوستانی وزیر اعظم کے بیان کا اتنے الگ طریقے سے ترجمہ ہونے پر ہندوستانی وفد نے نہ کوئی وضاحت پیش کی اور نہ ہی کوئی کارروائی کی، ایسا کیوں؟

Published: 4 Jun 2018, 4:37 PM