چین نے 20 نہتے فوجیوں کے قتل کو جائز کیسے ٹھہرایا، اس پر دباؤ کیوں نہیں ڈالا گیا؟ راہل گاندھی

چینی فوج کے ایل اے سی سے پیچھے ہٹنے کی خبروں کے درمیان کانگریس رہنما راہل گاندھی نے کچھ اہم سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ آخر چین 20 غیر مسلح فوجویوں کے قتل کو جائز کیسے ٹھہرا رہا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر چین کے ساتھ کشیدگی کے درمیان پیر کے روز یہ خبر موصول ہوئی کہ چینی فوج دو کلومیٹر پیچھے ہٹ گئی ہے۔ متعدد میڈیا رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا کہ دونوں ممالک کی افواج ہی ایل اے سی سے پیچھے ہٹ گئی ہیں۔

دریں اثنا، راہل گاندھی نے لداخ میں چین کی فوج کے پیچھے ہٹنے اور چینی موقف سے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال سے بات چیت کے حوالہ سے سوال اٹھائے ہیں۔ منگل کے روز انہوں نے ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے کچھ اہم سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ بات چیت کے دوران ہندوستان کی جانب سے ایل اے سی پر جمود قبل پر زور کیوں نہیں دیا گیا۔

راہل گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں این ایس اے ڈووال اور چینی اسٹیٹ کاؤنسلر وانگ یی کی بات چیت کو دونوں فریقین کی طرف سے جاری کئے گئے بیان کو شیئر کیا۔ انہوں نے لکھا قومی مفاد سب سے زیادہ ضروری ہے۔ حکومت ہند کا فرض ہے کہ وہ اس کی حفاظت کرے۔

اس کے بعد (کچھ اہم سوالات)

1. جمود قبل پر اصرار کیوں نہیں کیا گیا؟

2. چین ہمارے علاقہ میں 20 نہتے جوانوں کے قتل کو جائز کیوں ٹھہرا رہا ہے؟

3. وادی گلوان میں ہماری علاقائی خود مختاری کا ذکر کیوں نہیں ہو رہا ہے؟

غور طلب ہے کہ پیر کے روز وزارت خارجہ کی جانب سے بتایا گیا کہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال کی چینی اسٹیٹ کاؤنسلر وانگ یی سے علاقہ میں قیام امن کے حوالہ سے بات چیت ہوئی ہے۔ اس کے بعد ایسی خبریں بھی موصول ہوئیں کہ دونوں ممالک کی یافواج لداخ کی ایل اے سی سے باہمی مفاہمت کے بعد پیچھے ہٹنا شروع ہو گئی ہیں اور دنوں فریقین کے فوجیوں کے درمیان ایک ’بفر زون‘ بنا دیا گیا ہے۔

next