راہل گاندھی کی مسلم دانشوران سے ملاقات

کانگریس کے صدر راہل گاندھی

راہل گاندھی سے ملاقات کے دوران میٹنگ میں شامل دانشوران نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور اردو زبان سے وابستہ ایشوز اٹھائے۔

ڈھائی گھنٹہ تک چلی اس ملاقات کے دوران راہل گاندھی نے مندر وں کا دورہ کرنے کے حوالہ سے کہا کہ انہوں نے صرف مندروں کا ہی دورہ نہیں کیا بلکہ مسجدوں اور چرچوں کا بھی دورہ کیا۔

کانگریس صدر راہل گاندھی نے بدھ کے روز کچھ مسلم دانشوران سے ملاقات کی۔ تقریباً ڈھائی گھنٹہ تک چلی اس ملاقات میں راہل گاندھی نے کہا کہ اگلی حکومت بی جے پی کی نہیں بن رہی اور عام انتخابات میں بی جے پی کو ہرانے کے لئے کانگریس یکساں نظریات کی حامل پارٹیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

راہل گاندھی کی مسلم دانشوران سے ملاقات کو بی جے پی کی ’سمپرک سے سمرتھن ‘ مہم کا جواب تصور کیا جا رہا ہے۔ کانگریس نے جو حکمت عملی تیار کی ہے اس کے تحت یہ پہلی ملاقات تھی۔

ذرائع کے مطابق اس ملاقات کے دوران راہل گاندھی کے مندروں کے دورے پر بھی سوال پوچھے گئے۔ اطلاعات کے مطابق راہل گاندھی نے کہا کہ وہ مسجدوں اور چرچوں میں بھی گئے لیکن میڈیا نے مندر جانے کی خبروں کو ہی ترجیح دی اور مسجدوں اور چرچوں میں جانے کی خبریں میڈیا نے نہیں دکھائیں۔

دراصل 2019 انتخابات سے قبل مسلمانوں کے ذہن میں کیا چل رہا ہے، کانگریس صدر راہل گاندھی نے مسلم دنشواران سے ملاقات کرکے جاننے کی کوشش کی کہ ایسے کون کون سے مدے ہیں جو عوامی رائے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دانشوران سے ملاقات کرنے کا یہ بھی مقصد تھا کہ مسلم طبقہ کن کن مسائل سے دو چار ہے۔

اس میٹنگ میں مشہور و معروف مورخ سید عرفان حبیب، معروف اسکالر ابو صالح شریف، مصنفہ اور سماجی کارکن فرح نقوی، مصنفہ رخشندہ جلیل، سابق آئی پی ایس افسر ایم ایم فاروقی، راجہ محمود آباد عامر محمد خان ، جاوید اختر وغیرہ نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں سینئر کانگریس رہنما سلمان خورشید اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اقلیتی شعبہ کے سربراہ ندیم جاوید نے بھی حصہ لیا۔ اس میٹنگ میں جاوید اختر کو بلائے جانے پر مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے ٹوئٹ کے ذریعہ کہا کہ جاوید اختر خود کو مسلم کب مانتے ہیں، وہ کیسے مسلم مسائل پر رائے دے سکتے ہیں ۔

Interesting that @Javedakhtarjadu, who proudly claims that he is an athiest & don't believe in Islam, would join group...

Posted by Navaid Hamid on Wednesday, July 11, 2018

ذرائع کے مطابق میٹنگ کے دوران آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور اردو زبان کے حوالے سے بھی بات کی گئی۔ راہل گاندھی نے دانشوارن سے پوچھا کہ جب وہ لوگوں کے بیچ جائیں تو انہیں کن ایشوز کو اٹھانا چاہئے۔ اطلاع کے مطابق مورخ سید عرفان حبیب نے راہل گاندھی سے کہا کہ کانگریس کو پالیسی، روزگار اور خوف کے ماحول جیسے مسائل پر لوگوں سے بات کرنی چاہئے جن کا لوگ سامنا کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق میٹنگ میں شامل کچھ لوگوں نے کانگریس کی طرف سے سالہا سال تک کی گئیں غلطیوں کے تعلق سے پوچھا اور سوال کیا کہ کیا کانگریس ان غلطیوں سے سبق حاصل کرے گی۔ تصور کیا جا رہا ہے کہ راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس کو معلوم ہے کہ کیا غلطیاں ہوئیں ہیں اور وہ سدھار کے لئے قدم اٹھا رہی ہے۔

سب سے زیادہ مقبول