ویڈیو: راہل گاندھی کی طالبات سے گفتگو، ’نوجوان نسل سچ کو پہچان چکی، خواتین بااختیار ہوں گی تو ملک آگے بڑھے گا‘
راہل گاندھی نے دہلی یونیورسٹی کی طالبات سے گفتگو میں کہا کہ آج کا نوجوان حقیقت کو سمجھ چکا ہے۔ انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے، عدم مساوات اور سیاست میں مکالمے کی اہمیت پر زور دیا
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے دہلی یونیورسٹی سے وابستہ گارگی کالج کی طالبات سے ایک طویل اور کھلی گفتگو میں نوجوان نسل، خواتین کے کردار، عدم مساوات اور موجودہ سیاسی ماحول جیسے اہم موضوعات پر اپنے خیالات پیش کیے۔ اس ملاقات کے دوران انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ آج کا نوجوان ہندوستان حقیقت کو پہچان چکا ہے اور اب روایتی بیانیے زیادہ دیر تک اثرانداز نہیں ہو سکتے۔
گفتگو کا آغاز ایک غیر رسمی ماحول میں ہوا جہاں راہل گاندھی نے طالبات سے ان کے تجربات اور مسائل کے بارے میں سوالات کیے۔ اس دوران کچھ طالبات نے کالج میں پیش آئے ایک تنازعہ کا ذکر کیا، جس میں بی جے پی کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی کے افراد نے کالج میں داخل ہو کر ہنگامہ آرائی کی۔ طالبات نے بتایا کہ اگرچہ صورتحال اچانک اور پریشان کن تھی لیکن انہوں نے متحد ہو کر اس کا مقابلہ کیا اور خوفزدہ ہونے کے بجائے حالات کو سنبھالا۔
راہل گاندھی نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں گھبراہٹ ایک فطری ردعمل ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ لوگ خود کو مضبوط بنائیں اور اجتماعی طاقت کا استعمال کریں۔ انہوں نے طالبات کے حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ نوجوان نسل نہ صرف باخبر ہے بلکہ مشکل حالات میں بھی کھڑی ہو سکتی ہے۔
گفتگو کے دوران عدم مساوات، ذات پات اور تاریخی ناانصافیوں کا موضوع بھی زیر بحث آیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان میں سماجی عدم مساوات کوئی نئی چیز نہیں بلکہ یہ صدیوں پر محیط ایک حقیقت ہے، جس نے خاص طور پر نچلے طبقات کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آزادی کے بعد اگرچہ کچھ بنیادی تبدیلیاں آئیں لیکن آج بھی کئی سطحوں پر یہ مسائل موجود ہیں۔
انہوں نے نوآبادیاتی دور اور اس کے اثرات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد صرف بیرونی طاقتوں کے خلاف نہیں تھی بلکہ اندرونی طاقت کے ڈھانچوں کے خلاف بھی تھی۔ ان کے مطابق، کسی بھی معاشرے میں حقیقی تبدیلی اسی وقت آتی ہے جب لوگ اپنی اندرونی ساخت اور کمزوریوں کو سمجھتے ہیں۔
خواتین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے واضح کیا کہ ہندوستان کی ترقی خواتین کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر خواتین کو بااختیار بنانے کے زیادہ حامی ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جتنا زیادہ خواتین کو مواقع ملیں گے، ملک اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ انہوں نے سیاسی نمائندگی میں خواتین کے کردار کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ خواتین کے لیے مخصوص نشستیں ایک ابتدائی قدم ہیں، اصل مقصد انہیں فیصلہ سازی کے مرکز تک پہنچانا ہے۔
منی پور کے تنازعہ پر سوال کے جواب میں راہل گاندھی نے کہا کہ تقسیم کی سیاست ہمیشہ تنازعات کو جنم دیتی ہے۔ ان کے مطابق اگر مختلف طبقات کے درمیان مکالمہ اور اعتماد نہ ہو تو تصادم ناگزیر ہو جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اگر سنجیدگی سے چاہے تو امن قائم کرنا مشکل نہیں لیکن اس کے لیے سیاسی عزم ضروری ہے۔
تعلیم کے نظام پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے تعلیمی نصاب میں کئی اہم طبقات کی تاریخ اور تجربات کو نظر انداز کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ایک متوازن سماجی شعور پیدا نہیں ہو پاتا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں تعلیمی اصلاحات ناگزیر ہوں گی تاکہ ایک جامع اور منصفانہ نظام قائم کیا جا سکے۔
گفتگو کے اختتام پر راہل گاندھی نے طالبات کو سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی اور کہا کہ اگر وہ چاہیں تو انہیں سیاست کی عملی تربیت کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کا مستقبل نوجوانوں، خصوصاً خواتین کے ہاتھ میں ہے اور ان کی شرکت کے بغیر کوئی بھی جمہوری نظام مکمل نہیں ہو سکتا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔