راہل گاندھی عدالت میں ہوئے پیش، اگلی سماعت 10 دسمبر کو، ذاتی طور پر پیش ہونے سے ملی چھوٹ

آج راہل گاندھی ہتک عزت کے ایک معاملہ میں عدالت مین پیش ہوئے۔ اس معاملہ کی اگلی سماعت 10دسمبر کو ہوگی

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا

یو این آئی

سینئر کانگریس لیڈر، لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ اور پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھي گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے دوران کرناٹک کی ایک انتخابی ریلی میں دیئے گئےاپنے مبینہ متنازعہ بیان- ’تمام مودی چور ہیں‘ کو لے کر یہاں حکمران بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی کی جانب سے دائر ہتک عزت کے معاملہ میں آج عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (سی جی ایم) بی ایچ کاپڑیا کی عدالت میں جب راہل گاندھی صبح پونے گیارہ بجے پیش ہوئے تو ان سے طے عمل کے مطابق سی جی ایم نے ان کا نام، عمر اور پتہ پوچھا اور پھر یہ پوچھا کہ وہ کیا ان پر لگائے گئے الزام کو قبول کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں راہل گاندھی نے الزامات کو سرے سے مسترد کردیا۔

یہ معاملہ مقامی بی جے پی ممبر اسمبلی پورنیش مودی نے درج کرایا ہے۔ راہل کے وکیل کریٹ پانوالا نے عدالت میں ذاتی پیشی سے مستقل چھوٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک عرضی بھی دائر کی۔ عدالت نے کیس کی سماعت کی اگلی تاریخ 10 دسمبر تک اور اس دن انہیں عدالت میں پیشی سے چھوٹ بھی دے دی۔ راہل گاندھی تقریبا 15 منٹ تک عدالت میں رہے۔

مسٹر مودی کے وکیل ہنس مکھ ایل والا نے مسٹر گاندھی کو پیشی سے چھوٹ دیئے جانے کی پرزور مخالفت کی ۔ اب اگلی تاریخ کی سماعت کے بعد تعزیرات ہند کی دفعہ 500 کے تحت درج اس معاملے کی باقاعدہ سماعت شروع ہوگی۔ اس کے تحت مجرم ثابت ہونے پر دو سال کی سزا یا جرمانے یا دونوں کا التزام ہے۔

مسٹر گاندھی ہتک عزت معاملہ کے ہی ایک اور کیس میں کل احمد آباد کے ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ آر بی اٹالیہ کی عدالت میں بھی پیش ہوں گے۔

واضح رہے کہ ریاست میں مسٹر گاندھی کے خلاف ہتک عزت کے مجموعی طور پر تین مقدمے چل رہے ہیں۔ احمد آباد میں ہتک عزت کے دو معاملات چل رہے ہیں۔ بی جے پی کے ایک مقامی کونسلر كرشودن برهم بھٹ نے جبل پور میں 23 اپریل کو انتخابی ریلی کے دوران پارٹی کے صدر امت شاہ کو قتل کا ملزم بتانے سے متعلق ان کے بیان کو لے کر یہ معاملہ درج کرایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسٹر شاہ کو ایسے معاملات میں عدالت سے كلین چٹ ملنے کے بعد دیا گیا یہ بیان ہتک عزت ہے۔ مسٹر گاندھی کل اسی کیس میں عدالت میں پیش ہوں گے۔

اس سے پہلے گذشتہ 12 جولائی کو وہ یہاں ایک اور ایسے معاملہ میں عدالت میں پیش ہوئے تھے جو نوٹ بندي کے دوران احمد آباد ضلع کوآپریٹو بینک میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر منسوخ نوٹوں کی ادلابدلي کو لے کر بینک کے اس وقت کے ڈائریکٹر اور بی جے پی صدر امت شاہ کو لے کر دیئے گئے ان کے بیان اور سوشل میڈیا پوسٹ کو لے کر درج کرایا گیا تھا۔

Published: 10 Oct 2019, 1:04 PM