وائٹ ہاؤس کے بدلے رخ پر راہل گاندھی کا اظہار افسوس

دونوں ممالک کے درمیان اتنے قریبی تعلقات ہونے کے باوجود وہائٹ ہاؤس نے ایسا قدم اٹھایاہے تو لوگوں میں اس کو لے کر تشویش ہونا تو لازمی ہے۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے امریکی صدارتی محل وائٹ ہاؤس کی جانب سے ہندوستان کے صدر اور وزیر اعظم کو اَن فالو کئے جانے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے وزارت خارجہ سے اس معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

مسٹر گاندھی نے بدھ کو دیر رات ٹویٹ کرکے کہا ’’وائٹ ہاؤس کی طرف سے ہمارے صدر اور وزیر اعظم کو ’ان فالو‘ کئے جانے سے میں مایوس ہوں۔ میں وزارت خارجہ سے اس معاملے کا نوٹس میں لینے کی اپیل کرتا ہوں‘‘۔

واضح رہے کہ کوروناوائرس سے لڑنے کے لئے ہندوستان نے ہائیڈروكسیكلوروكوین ادویات دے کر امریکہ کی مدد کی تھی۔ وائٹ ہاؤس نے اس کے کچھ دن بعد رراشٹرپتی بھون، مسٹر مودی، وزیر اعظم کے دفتر سمیت ہندوستان کے پانچ ٹوئٹر ہینڈل کو فالو کرنا شروع کیا تھا لیکن اب اس نے ان سب کو اچانک ’ان فالو‘ کر دیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکہ میں ایک زبردست تقریب کے دوران اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘۔ وزیر اعظم کے اس نعرے کو جہاں کچھ لوگوں نے ہند امریکہ دوستی سے تعبیر کیا تھا تو وہیں ایک بڑے طبقہ نے اس پوری تقریب پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتخابی ریلی سے تعبیر کیا تھا۔ اس کے بعد ابھی اسی سال امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہندوستان کا دورہ کیا تھا جس کا نام نمستے ٹرمپ دیا گیا تھا۔دونوں ممالک کے درمیان اتنے قریبی تعلقات ہونے کے باوجود وہائٹ ہاؤس نے ایسا قدم اٹھایاہے تو لوگوں میں اس کو لے کر تشویش ہونا تو لازمی ہے۔

واضح رہےکورونا بحران کے درمیان ہائیڈراکسی کلوروکوئن دوا ملنے کے بعد جو امریکہ دن رات وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریفوں کے پل باندھ رہا تھا، اب اس نے کام ہونے کے بعد پی ایم مودی کو نظرانداز کرنا شروع کر دیا ہے۔ دراصل یہ ہم نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ وہائٹ ہاؤس نے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جس سے کچھ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔ کورونا وائرس بحران کے درمیان حکومت ہند کے ٹوئٹر ہینڈل کو لے کر امریکہ کا رخ بدل گیا ہے۔ اس نے پی ایم مودی کے ٹوئٹر ہینڈل کو اَن فالو کر دیا ہے۔

next