راہل گاندھی نے اٹھایا فضائی آلودگی کا مسئلہ، شہریوں سے ’آواز بھارت کی‘ سے جڑنے اور تجربات شیئر کرنے کی اپیل
راہل گاندھی نے فضائی آلودگی کے صحت اور روزگار پر پڑنے والے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ’آواز بھارت کی‘ پلیٹ فارم پر اپنے ذاتی تجربات اور مشکلات شیئر کریں

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ملک بھر کے شہریوں سے فضائی آلودگی کے اثرات پر اپنی ذاتی کہانیاں اور تجربات سامنے لانے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ صحتِ عامہ اور معیشت دونوں کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے، جس کا بوجھ روزانہ کروڑوں عام ہندوستانی برداشت کر رہے ہیں۔
راہل گاندھی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ فضائی آلودگی کی قیمت ملک اپنے شہریوں کی صحت اور معاشی نقصانات کی صورت میں ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق بچے اور بزرگ اس مسئلے سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ تعمیراتی مزدوروں اور دیہاڑی پر کام کرنے والے افراد کے روزگار پر بھی اس کے منفی اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فضائی آلودگی کو صرف موسمِ سرما کا مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ راہل گاندھی کے مطابق جیسے ہی سردی ختم ہوتی ہے، یہ موضوع عوامی بحث سے غائب ہو جاتا ہے، حالانکہ اس کے اثرات پورا سال برقرار رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی تبدیلی کی شروعات اسی وقت ممکن ہے جب متاثرہ لوگ اپنی آواز بلند کریں اور اپنے تجربات کو سامنے لائیں۔
اسی مقصد کے تحت راہل گاندھی نے عوامی رابطے کے اپنے پلیٹ فارم ’آواز بھارت کی‘ کے ذریعے شہریوں کو مدعو کیا ہے کہ وہ فضائی آلودگی سے متعلق اپنی مشکلات، خدشات اور مشاہدات درج کریں۔ اس پلیٹ فارم کو ان کے دفتر اور عوام کے درمیان براہِ راست رابطے کا ذریعہ بتایا جا رہا ہے، جہاں لوگ مختلف سماجی مسائل پر اپنی بات رکھ سکتے ہیں۔
پلیٹ فارم پر موجود معلومات کے مطابق ’آواز بھارت کی‘ کا مقصد شہریوں کی آواز کو منظم شکل میں قیادت تک پہنچانا ہے، تاکہ عوامی مسائل کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ہر پیغام قیمتی ہے اور ان کی کوشش ہوگی کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی بات سنی جائے۔
یہ اپیل ایسے وقت سامنے آئی ہے جب نئی دہلی اور آس پاس کے کئی شہروں میں فضائی معیار مسلسل خراب رہا ہے۔ گھنی اسموگ اور خطرناک سطح کی آلودگی کے باعث سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے اور بچوں و بزرگوں کو خاص طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
فضائی آلودگی کے باعث تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں اور کئی مواقع پر اسکولوں کو آن لائن کلاسز کی طرف جانا پڑا۔ دسمبر 2025 میں اس مسئلے کے خلاف شہریوں، طلبہ اور ماحولیاتی کارکنوں نے جنتر منتر پر احتجاج بھی کیا، جہاں حکومت سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔ کانگریس نے بھی پارلیمان میں اس مسئلے کو مسلسل اٹھاتے ہوئے حکومت پر ناکافی کارروائی کا الزام عائد کیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔