ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کو راہل گاندھی نے ’دھوکہ‘ سے تعبیر کیا، مرکزی حکومت سے پوچھے 5 سوالات

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہوئے تجارتی معاہدہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے 5 آسان سوالات کے جواب دینے کی گزارش کی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کے خلاف لگاتار آواز بلند کر رہے ہیں۔ 15 فروری کو انھوں نے ایک بار پھر اس معاہدہ معاملہ پر مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کیا ہے، جس میں کہا ہے کہ ’’یہ معاہدہ ہندوستانی کسانوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔ یہ معاہدہ کسانوں کو بہت نقصان پہنچا سکتا ہے اور ملک کی زرعی خود مختاری کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔‘‘ اس معاہدہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی سے 5 آسان سوالات کے جواب دینے کی گزارش بھی کی ہے۔ راہل گاندھی نے جو سوالات پی ایم مودی کے سامنے رکھے ہیں، وہ اس طرح ہیں:

  1. ڈی ڈی جی امپورٹ (DDG Import) کرنے کا حقیقتاً کیا مطلب ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستانی مویشیوں کو جی ایم امریکی مکئی سے بنے ڈسٹلرز گرین کھلائے جائیں گے؟ کیا اس سے ہماری دودھ کی مصنوعات مؤثر طور پر امریکی زرعی صنعت پر منحصر نہیں ہو جائیں گی؟

  2. اگر ہم جی ایم سویا تیل کی درآمد کی اجازت دیتے ہیں، تو مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، راجستھان اور ملک بھر کے ہمارے سویا کسانوں کا کیا ہوگا؟ وہ قیمتوں کے ایک اور جھٹکے کو کیسے برداشت کر پائیں گے؟

  3. جب آپ ’ایڈیشنل پروڈکٹس‘ کہتے ہیں، تو اس میں کیا کیا شامل ہے؟ کیا یہ وقت کے ساتھ دال اور دیگر فصلوں کو امریکی درآمدات کے لیے کھولنے کے دباؤ کا اشارہ ہے؟

  4. نان ٹریڈ بیریئرز ہٹانے کا کیا مطلب ہے؟ کیا مستقبل میں ہندوستان پر جی ایم فصلوں پر اپنے مؤقف کو نرم کرنے، پروکیورمنٹ کو کمزور کرنے یا ایم ایس پی اور بونس میں کمی کرنے کا دباؤ ڈالا جائے گا؟

  5. ایک بار یہ دروازہ کھل گیا، تو ہر سال اسے مزید کھلنے سے ہم کیسے روکیں گے؟ کیا اس کی روک تھام ہوگی، یا ہر بار معاہدے میں بتدریج مزید فصلوں کو میز پر رکھ دیا جائے گا؟


مذکورہ بالا سوالات پیش کرنے کے بعد راہل گاندھی نے کہا کہ کسانوں کو اس بارے میں وضاحت ضرور ملنی چاہیے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ صرف آج کی بات نہیں ہے، یہ مستقبل کی بھی بات ہے۔ وہ یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ کیا ہم کسی دوسرے ملک کو ہندوستان کی زرعی صنعت پر طویل مدت کی گرفت بنانے دے رہے ہیں؟

واضح رہے کہ ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں، کسان تنظیموں اور ٹریڈ یونینوں نے 12 فروری کو ملک گیر بند کا اعلان کیا تھا۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے اس معاملہ میں پارلیمنٹ میں بھی زبردست احتجاج کیا تھا۔ اپوزیشن اراکین نے حکومت سے معاہدے کی مکمل معلومات عام کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔