گوا کی زمین ارب پتیوں کے حوالے کی جا رہی، ووٹ چوری اور بدعنوانی کے خلاف کانگریس کی لڑائی جاری: راہل گاندھی

راہل گاندھی نے زمینیں سرمایہ داروں کے حوالے کرنے، بدعنوانی اور بے روزگاری کو بڑھاوا دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے ووٹ چوری کے خلاف جدوجہد اور آئندہ انتخابات میں کانگریس کو مکمل اکثریت دلانے کی اپیل کی

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>
i

مڈگاؤں: کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ گوا کی بی جے پی حکومت ریاست کی زمین کسانوں اور غریبوں سے چھین کر ارب پتیوں کے حوالے کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوا میں بدعنوانی کو ایک ماڈل کی شکل دے دی گئی ہے، جہاں زمینوں کی خرید و فروخت سے لے کر مختلف شعبوں میں بدعنوانی تک، سب کچھ عوام کی قیمت پر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کانگریس کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ آنے والے انتخابات میں پوری طاقت سے کام کریں اور پارٹی کو مکمل اکثریت دلائیں۔

راہل گاندھی اتوار کو مڈگاؤں کے کالکونڈا میں گوا کانگریس کی جانب سے منعقدہ ’گوئے راکھون یاترا‘ (گوا بچاؤ مارچ) سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے یاترا کے انعقاد پر کانگریس کارکنوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ سیاست دانوں کے لیے محض اسٹیج پر تقریر کر کے چلے جانا کافی نہیں ہے، بلکہ عوام کے درمیان جا کر ان کے مسائل سننا ضروری ہے۔ عوام کی مشکلات کو سمجھنے کے بعد ہی ان کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

راہل گاندھی نے ووٹر لسٹوں میں بے ضابطگیوں اور ووٹ چوری کے الزامات پر بی جے پی، وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا نام لیتے ہوئے الزام لگایا کہ انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے ذریعے اپوزیشن کے حامیوں کے ووٹ کاٹے جاتے ہیں، جب کہ اپنے حامیوں کے ووٹ بڑھائے جاتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مختلف ریاستوں میں ووٹروں کے نام ایک ضلع سے دوسرے ضلع اور ایک ریاست سے دوسری ریاست میں منتقل کرکے انتخابی نتائج کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس نے مدھیہ پردیش، ہریانہ، کرناٹک، چھتیس گڑھ، مہاراشٹر، مغربی بنگال اور آسام میں ووٹ چوری کے الزامات کو ثبوتوں کے ساتھ اٹھایا ہے۔ راہل گاندھی نے کانگریس کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ انتخابی عمل پر کڑی نظر رکھیں اور کہیں بھی بے ضابطگی نظر آنے پر اسے سامنے لائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس آئین کے تحفظ کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی اور انتخابی بے ضابطگیوں کے ذمہ داروں کو جواب دہ بنائے گی۔


راہل گاندھی نے گوا کی زمینوں سے متعلق پالیسیوں پر ریاستی حکومت کو گھیرتے ہوئے الزام لگایا کہ زمینوں کے ماسٹر پلان کو منسوخ کرنے کے بعد حکومت اپنے قریبی لوگوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔ ان کے مطابق، گوا کی زمین کو سرمایہ داروں کے لیے دولت کمانے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے، جب کہ مقامی کسانوں اور غریب خاندانوں کے مفادات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے ریاست میں بے روزگاری اور نوجوانوں کے مستقبل پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ روزگار کے مواقع نہ ملنے کی وجہ سے گوا کے نوجوان بیرون ملک جانے پر مجبور ہیں، جب کہ بی جے پی کے رہنماؤں اور ان کے قریبی لوگوں کے اثاثوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکز کی مودی حکومت بھی ہوائی اڈوں، سڑکوں، بجلی گھروں اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں بڑے سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔

راہل گاندھی نے گوا میں بدعنوانی کو ملک کے لیے ایک مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں زمینوں سے متعلق بدعنوانی سمیت مختلف طریقوں سے عوامی وسائل کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو اس نظام کے خلاف لڑنا ہے۔ کانگریس رہنما نے تعلیمی اداروں میں آر ایس ایس سے وابستہ افراد کی تقرریوں کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ملک کے تعلیمی نظام کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے طلبہ کے احتجاج، بے روزگاری اور تعلیم کے بڑھتے اخراجات کا ذکر کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کی۔

راہل گاندھی نے کہا کہ گوا کسی وزیر اعلیٰ یا وزیر کی ذاتی ملکیت نہیں، بلکہ یہاں کے عوام کی ریاست ہے۔ عوام کو معیاری تعلیم، بہتر صحت کی سہولتیں، روزگار اور صاف ماحول ملنا چاہیے۔


انہوں نے کانگریس کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ عوام کے درمیان جاکر محبت اور خلوص کے ساتھ کام کریں اور آنے والے انتخابات میں پارٹی کو مکمل اکثریت دلانے کے لیے متحد ہو جائیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ عوام کی حمایت سے گوا میں کانگریس اقتدار میں آ سکتی ہے۔ خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ جب بھی گوا میں ان کی ضرورت ہوگی، وہ یہاں آنے کے لیے تیار ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔