ویڈیو: ’بے روزگاری مودی کی سیاست کے لئے آکسیجن کی طرح‘ راہل گاندھی کا مودی پر حملہ 

پرینکا نے خود کو لوگوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ میں اپنے لیڈروں کے بعد آنے کے لئے معافی چاہتی ہوں۔ مجھ سے غلطی یہ ہوئی کہ میں نے شیلا دیکشت کی بنائی میٹرو نہیں لی، اگر میں وہ لے لیتی تو وقت پر پہنچ جاتی

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

سید خرم رضا

اجمیری گیٹ، لال کنواں، چاوڑی بازار اور بازار سیتارام سے آنے والی سڑکیں حوض قاضی چوک پر آکر ملتی ہیں اور کل ان چاروں سڑکوں سے آنے والے لوگ اس چوک پر پرینکا گاندھی اور راہل گاندھی کو سننے کے لئے وقت سے پہلے پہنچنا چاہتے تھے۔ بھیڑ کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے چوک کی جانب آنے والی چاروں سڑکوں پر بڑی بڑی اسکرین لگائی ہوئی تھیں۔

پرینکا گاندھی جیسے ہی تقریرکرنے کے لئے مائک پرآئیں تو لوگ جوش میں نعرے بازی کرنے لگے۔ پرینکا نے خود کو لوگوں سے جوڑتے ہوئے کہا ’’میں اپنے لیڈروں کے بعد آنے کے لئے معافی چاہتی ہوں۔ دراصل میں سڑک کے راستے سے آئی لیکن حکومت نے کوئی کام تو کیا نہیں ہے اس لئے ٹریفک جام میں پھنس گئی۔ مجھ سے غلطی یہ ہوئی کہ میں نے شیلا دیکشت کی بنائی ہوئی میٹرو نہیں لی، اگر میں وہ لے لیتی تو وقت پر پہنچ جاتی۔‘‘

موجود بھیڑ کے جوش کو دیکھتے ہوئے پرینکا نے مرکزی حکومت پر حملہ بولا ’’ہندوستان ایک خوبصورت باغیچہ ہے جہاں رنگ برنگی پھول کھلتے ہیں لیکن موجودہ حکومت اس باغیچہ کو برباد کرنے پر تلی ہوئی ہے۔‘‘ جس علاقہ میں کانگریس کا جلسہ تھا وہاں پر اتر پردیش سے روزگار کے لئے آئے مسلم اقلیت کے لوگ رہتے ہیں اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے پرینکا نے کہا ’’میں نے اپنی آنکھوں سے بجنور، میرٹھ، مظفر نگر اور وارانسی میں پولیس کی زیادتیوں کے نشان دیکھے ہیں۔‘‘

اس موقع پر پرینکا گاندھی نے کیجریوال حکومت کے رپورٹ کارڈ کو پیش کیا جس میں انہوں نے کیجریوال حکومت کے کام کاج کا شیلا دیکشت حکومت کے کام کاج سے موازنہ کیا۔ جب انہوں نے یہ رپورٹ کارڈ پڑھا تو موجود لوگوں نے ’شیم شیم‘ کے نعرہ لگائے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلی کیجریوال تشہیر کے بھوکے ہیں ’’نریندر مودی حکومت نے تشہیر پر 52000 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں جبکہ کیجریوال نے 611 کروڑ روپے تشہیر پر خرچ کیے ہیں۔‘‘ پرینکا نے علاقہ کے عوام سے خود کو جوڑتے ہوئے کہا کہ بہت سال پہلے وہ اپنے شوہر کے کاروبار کے لئے ترکمان گیٹ، صدر بازار اور چاوڑی بازار سے سامان لینے آتی تھی۔ جیسے ہی مقامی مسجد سے آذان کی آواز آئی تو انہوں نے اپنا خطاب روک دیا۔

پرینکا گاندھی جہاں لوگوں کے ساتھ جذباتی طور پر جڑتی ہوئی نظر آئیں، وہیں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے مرکزی حکومت پر جم کر حملہ بولا ’’بے روزگاری مودی کی سیاست کے لیے آکسیجن ہے کیونکہ بے روزگاری کی وجہ سے ان کو مذہب کی سیاست کرنے میں آسانی ہوگی، بے روزگار نوجوانوں کو مذہبی مدوں کی جانب راغب کیا جا سکتا ہے۔ آج ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری ہے اور بے روزگاری دور کرنے کے لئے مودی اور کیجریوال حکومت نے کچھ نہیں کیا۔‘‘ راہل گاندھی نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا ’’ملک فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا، بیرون ملک کے سرمایہ کار بد امنی میں سرمایہ کاری نہیں کریں گے اور اگر ملک ترقی نہیں کرے گا اور باہر سے سرمایہ نہیں آئے گا تو بے روزگاری کیسے دور ہوگی۔ جبکہ وزیر اعظم تو نوجوانوں کو پکوڑے بیچنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔‘‘

کانگریس کے اقلیتی شعبہ کے صدر ندیم جاوید نے اپنے خطاب میں مولانا آزاد کی 1947 میں جامع مسجد میں دیئے گئے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مولانا نے کہا تھا کہ انہیں ایسی آزادی منظور نہیں جس میں ہندو مسلم اتحاد نہ ہو۔ اس پر راہل گاندھی نے کہا کہ ’’میں اس سے آگے کہنا چاہتا ہوں کہ ہندو-مسلم اتحاد کے بغیر آزادی ممکن ہی نہیں۔‘‘ انہوں نے بجٹ خطاب کے دوران نرملا سیتارمن کی طبعیت خراب ہونے پر چٹکی لیتے ہوئے کہا ’’ڈھائی گھنٹے لگاتار کون جھوٹ بول سکتا ہے۔ دس بارہ گھنٹے رکے بغیر صرف مودی، شاہ اور کیجریوال ہی جھوٹ بول سکتے ہیں۔‘‘

لوگوں کے درمیان ایک خسرو اپنے قریب بیٹھے شخص سے یہ کہتے ہوئے سنائی دیا ’’شہریت ثابت کرنے کے لئے کس کے پاس دستاویزات ہیں، اس سے اچھا کانگریس کا دوور ہی تھا مودی نے تو ملک کو تباہ کر دیا ہے۔‘‘ بھیڑ میں کھڑے بزرگ سکھ بہت غور سے راہل اور پرینکا کی تقریر نہ صرف سن رہے تھے بلکہ ان کی بات کے حق میں سر ہلاتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ پورے جلسہ کے دوران چوک کی جانب آنے والی سڑکوں پر دوکانیں کھلی رہیں اور دوکاندار جہاں اپنا کام کرتے رہے وہیں وہ آخر تک اس لئے بیٹھے رہے کیونکہ وہ کانگریس رہنماؤں کے خیالات سننا چاہتے تھے۔

جلسہ میں بلیماراں کے امیدوار ہارون یوسف، چاندنی چوک کی امیدوار الکا لامبا اور مٹیا محل کے امیدوار مرزا جاوید علی سمیت کانگیرس کے سینئر رہنما وینوگوپال، دہلی کے انچارج پی سی چاکو، ندیم جاوید، سبھاش چوپڑا اور دونوں کونسلر موجود تھے۔ جلسہ کے بعد تینوں امیدواروں نے اپنے علاقوں کی جانب جانے والی سڑکوں پر بھیڑ کے ساتھ روڈ شو کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 06 Feb 2020, 11:11 AM