قومی

طنز و مزاح: ووٹنگ ہوتے ہی ختم ہو جانے والا راگ ’رام جنم بھومی‘

رام جنم بھومی راگ کو راگ ستہ (اقتدار کا راگ) اور راگ وِدھونش (تباہی کا راگ) بھی کہا جاتا ہے۔ اسے چھیڑنے کا مناسب وقت قبل از عام انتخابات ہوتا ہے،اس کے استعمال کا مقصد محض اقتدار کو حاصل کرنا ہوتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

وشنو ناگر

راگ رام جنم بھومی مند۔ کہتے ہیں کہ یہ راگ تقریباً دو سو سال پرانا ہے لیکن اس راگ کے تخلیق کار نا معلوم ہیں۔ اسے نئی زندگی دینے کا کام لال کرشن اڈوانی نامی بی جے پی کے ایک اعلیٰ رہنما نے بیسویں صدی کے نوے کے عشرے میں کیا تھا۔ نتیجاً وہ ملک کے نائب وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچنے کے بعد اب بی جے پی کے ’مارگ درشک منڈل‘ کے رکن کے طور پر سیاسی بن واس (رحبانیت) میں بزرگی کی زندگی کچھ آرام اور بہت زیادہ بے چینی میں گزار رہے ہیں۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ اس راگ کے کاپی رائٹ پر قبضہ کرنے اور انہیں اس حالات میں پہنچانے والے نریندر مودی کی جب یہی حالت ہو جائے گی تو انہیں آرام ہو گا اور ان کی بے قراری کو قرار ملے گا۔

راگ رام جنم بھومی کو راگ ستّہ (اقتدار کا راگ) اور راگ وِدھونش (تباہی کا راگ) بھی کہا جاتا ہے۔ اسے چھیڑنے کا مناسب وقت قبل از عام انتخابات ہوتا ہے۔ جب اقتدار جا رہا ہوتا ہے تو اس راگ کو چھیڑ دیا جاتا ہے اور اس کے استعمال کا مقصد محض اقتدار کو حاصل کرنا ہوتا ہے، گویا تمام حصولیابیوں کی قومی شاہراہ یہی ہے۔ چونکہ یہ راگ چناؤ سے پہلے چھیڑا جاتا ہے اور حق رائے دہی کا عمل مکمل ہونے کے ساتھ ہی اسے روک دیا جاتا ہے، لہذا اس کے دورانیے کا ایک جز انتخابی کمیشن بھی ہے۔ موسیقی کے دوسرے راگوں سے موازنہ کیا جائے تو اس کو گائے جانے کا کوئی مقررہ وقت نہیں ہے۔ دن کے کسی بھی پہر اسے شروع کر کے ختم کیا جا سکتا ہے، سو اس کا ایک نام انادی-اننت (ابتداء تا-لامتناہی) بھی رکھا گیا ہے۔

موجودہ وقت میں اس راگ کی جگل بندی آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کی سرپرستی میں نریندر مودی کے زیر اہتمام منعقدہ تقاریب سے یوگی آدتیہ ناتھ اور پنڈت امت شاہ کر رہے ہیں۔ سنتے ہیں کہ اس راگ کا اختتام بذات خود نریندر مودی کی گلوکاری کے ساتھ ہوگا، جس سے مسلمانوں کے دلوں میں خوف اور سمجھ دار ہندؤوں اور دوسروں کے دلوں میں چِڑھ، غصہ اور احساس مذمت پیدا ہو۔ یہ راگ بھوک، بیروزگاری، کسانوں کی خود کشی جیسے تمام سوالوں کو نظر انداز کر کے ان سے دور بھاگنے میں مدد کرتا ہے اور جو سوال نہیں ہیں انہیں سوال کے طور پر پیش کرنے میں آر ایس ایس-بی جے پی کا مددگار ہے۔ سنت کہے جانے والی ایک خاص نسل کی طرف سے اس کو دن و رات پیش کیا جاتا ہے، جو پارلیمنٹ سے لے کر سڑک تک ہر جگہ سنائی دیتا ہے۔

یہ ابھی تک تخلیق کردہ تمام راگوں میں نہایت ہی بے ڈھب اور بے سُرا مانا جاتا ہے۔ اسے غلطی سے بھی پبلک ڈیمانڈ کے باوجود بھی وہ گلوکار پیش نہیں کرتے جن کی آواز سریلی ہے اور جن کے دل و دماغ صحیح ڈھنگ سے صحیح جگہ صحیح کام کر رہا ہوتا ہے۔ اس راگ کے گانے کو سب سے زیادہ قابل وہ جانے جاتے ہیں جو بے حد بے سُرے اور بے حد بیہودے ہوتے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک گن بھی کم ہو تو کوئی چاہے جتنی بھی کوش کر لے، ریاض کر کر کے جان بھی دے دے تو بھی وہ ’راگ رام جنم بھومی‘ نہیں گا سکتا۔

اس راگ کا تذکرہ کسی قدیمی دھارمک کتاب میں نہیں ملتا، کسی بابر نامہ کسی رام چرت مانس میں بھی نہیں ملتا، ہاں سنگھ-بی جے پی کی عقل میں ضرور اس کے نشانات موجود ہیں۔ کئی ماہرین کا خیال ہے کہ اس عجیب و غریب گلوکاری کی قسم دنیا میں کہیں موجود نہیں ہے۔ اس راگ کی بنیاد پر کچھ سنگھی ماہرین نے مانگ کی کہ انہیں اس کے لئے نوبل انعام دیا جائے لیکن بعد میں انہیں یہ معلوم چلا کہ موسیقی کے لئے تو نوبل انعام دیا ہی نہیں جاتا، ورنہ وہ اسٹاک ہوم اور اوسلو دونوں میں رام جنم بھومی مندر تعمیر کرنے کی دھمکی دینے لگے تھے۔ اب ان کی مانگ ہے کہ ہندوستان کو اقوام متحدہ ’وشو گرو‘ قرار دے ورنہ یو این او کے صدر دفتر پر وہ راگ رام جنم بھومی کا نہ ختم ہونے والا راگ چھیڑ دیں گے کہ ساؤنڈ پروف سسٹم کا پروف غائب ہو جائے گا اور وہ ساؤنڈ سسٹم میں بدل جائے گا۔

Published: 23 Dec 2018, 8:09 PM