اِدھر انل امبانی نےکمپنی کھڑی کی اور10 دن بعد پیرس میں رافیل معاہدہ کا اعلان ہوا

20 جولائی کو پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد پر بحث کے دوران کانگریس صدر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ آور ہوتے ہوئے انھیں رافیل گھوٹالے کا شراکت دار قرار دیا تھا جو صحیح ثابت ہوا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

وشو دیپک

پارلیمنٹ میں گزشتہ 20 جولائی کو تحریک عدم اعتماد پر بحث کے دوران اپنی تقریر میں راہل گاندھی نے کہا تھا ’’مودی جی نے کہا تھا کہ وہ ملک کے وسائل کی حفاظت کرنے والا چوکیدار بننا چاہتے ہیں، لیکن وہ چوکیدار نہیں بھاگیدار (اس لوٹ میں) ہیں۔‘‘ کسی کا بھی نام لیے بغیر کانگریس صدر نے وزیر اعظم سے ملک کو یہ بتانے کے لیے کہا تھا کہ ’’آخر کیوں 45000 کروڑ روپے کا ٹھیکہ حکومت کی ملکیت والی کمپنی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ سے لے کر ایک صنعت کار دوست کی کمپنی کو دے دیا گیا جس نے کبھی ایک ہوائی جہاز تک نہیں بنایا اور 35000 کروڑ کے قرض میں ڈوبی ہے۔‘‘

امید کے مطابق نہ تو وزیر اعظم نے اور نہ ہی وزیر دفاع نے اس پر کوئی جواب دیا۔ لیکن یہ سب کو معلوم ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا وہ صنعت کار دوست جس کی بات راہل گاندھی کر رہے تھے، وہ کوئی دوسرا نہیں بلکہ انل دھیرو بھائی امبانی گروپ کے سربراہ انل امبانی ہیں جن کی کل ملکیت کی قیمت 2016 میں فوربس کے ذریعہ جاری ارب پتیوں کی فہرست کے مطابق 3.3 بلین ڈالر تھی۔

مودی پر حملہ آور ہوتے ہوئے راہل گاندھی نے اس جادو کا ذکر کیا تھا جس کی وجہ سے اچانک سے رافیل جنگی طیارہ کی قیمت آسمان پر پہنچ گئی۔ انھوں نے کہا ’’یو پی اے کے ذریعہ طے کیے گئے ایک رافیل طیارہ کی قیمت 520 کروڑ روپے تھی۔ مودی جی فرانس گئے اور قیمت کو 1600 کروڑ روپے کرنے کا جادو کیا۔‘‘

جادو یہیں ختم نہیں ہوتا۔ نیشنل ہیرالڈ کے ذریعہ کاغذات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ انل امبانی نے 2015 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے فرانس دورے سے محض 10 دن پہلے ہی اپنی کمپنی تشکیل دی تھی۔ کارپوریٹ معاملوں کی وزارت کے پاس دستیاب جانکاری کے مطابق فرانس کی کمپنی ڈسالٹ ایویئشن کے ساتھ رافیل معاہدہ کرنے والی ریلائنس ڈیفنس لمیٹڈ کی تشکیل 500000 روپے کے بے حد کم سرمایہ کے ساتھ 28 مارچ 2015 کو ہوئی تھی۔ انل امبانی کی کمپنی کی تشکیل کے محض 10 دن کے بعد 10 اپریل کو وزیر اعظم نریندر مودی نے فرانس کے ساتھ رافیل معاہدہ کا اعلان کیا تھا۔

اِدھر انل امبانی نےکمپنی کھڑی کی اور10 دن بعد پیرس میں رافیل معاہدہ کا اعلان ہوا

نیوز ایجنسی رائٹر کے مطابق مودی نے فرانس کے سابق صدر فرانسوا اولاند سے اپنے فرانس دورہ کے پہلے دن 10 اپریل 2015 کو 36 پرواز بھرنے کے لیے اہل رافیل طیارہ ہندوستان کو دینے کے لیے کہا تھا۔ فرانس حکومت کے ذرائع کے حوالے سے رائٹر نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’جمعہ (10 اپریل) کو ہندوستان کے ساتھ ہوا معاہدہ اصل معاہدے سے الگ تھا۔‘‘

یہاں پر یہ جان لینا بھی اہم ہے کہ انل امبانی کے ذریعہ شروع کی گئی کمپنی کا سرمایہ بھی 500000 روپے تھا۔ کمپنی معاملوں کے ایک تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ کمپنی کا حقیقی سرمایہ اتنا کم ہونا پرموٹر کے ارادے پر شک پیدا کرتا ہے۔ کمپنی کا حقیقی سرمایہ اس مشترکہ سرمایہ کی میکسیمم قیمت ہوتی ہے جسے آئینی کاغذات کے ذریعہ کمپنی کو آتھرائز کیا جاتا ہے اور جو شیئر ہولڈروں کو جاری کیا جاتا ہے۔ ویسے جو لوگ صنعت اور کارپوریٹ معاملوں کی سمجھ رکھتے ہیں، مانتے ہیں کہ اتنی کم رقم کی پونجی والی کمپنی کو بغیر قانون کی خلاف ورزی کیے اور حکومت کے ذریعہ ’ضابطوں کی خلاف ورزی‘ کو نظر انداز کیے بغیر ہزاروں کروڑ روپے کا معاہدہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔

اس معاملے کی جانکاری رکھنے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ رائٹر کی یہ رپورٹ اس بات کو سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ کس طرح سے مودی حکومت نے پہلے 500000 روپے کے حقیقی سرمایہ والی کمپنی کو ہزاروں کروڑ روپے کا معاہدہ کرنے کی اجازت دے کر اور پھر انل امبانی کو فائدہ پہنچانے کے لیے یو پی اے حکومت کے ذریعہ طے کیے گئے معاہدہ کی شرطوں کو بدل کر قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی۔

راہل گاندھی نے رافیل معاہدہ پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ 35000 کروڑ روپے کے قرض میں ڈوبی کمپنی کو رافیل جیٹ طیارہ کی قیمت بڑھا کر 45000 کروڑ کا فائدہ پہنچایا گیا۔ راہل کے حملے کے بعد فرانس کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ملک قانونی طور پر کچھ خاص جانکاری کی حفاظت کے لیے مجبور ہیں۔ حالانکہ اس بیان میں خاص طور سے اس شق کا تذکرہ نہیں کیا گیا ہے جو ہندوستان کے سودے کی قیمت ظاہر کرنے سے روکتا ہے۔

اس سے متعلق جواب دینے سے قاصر وزیر اعظم نے حالانکہ راہل گاندھی کے الزامات کو یہ کہہ کر کم تر کرنے کی کوشش کی کہ ’’رافیل جنگی طیارہ سودے پر سیاست کر نا ناپختگی ہے۔ کیونکہ یہ معاہدہ دو کمپنیوں کے درمیان نہیں بلکہ دو ممالک کے درمیان ہوا تھا۔‘‘ لیکن کچھ سوال ہیں جن کے جواب باقی رہ گئے۔ ایک 10 دن پرانی کمپنی کو حساس دفاعی معاہدے کی اجازت کیوں دی گئی؟ کیا مودی حکومت سیکورٹی کے مقابلے اپنے کارپوریٹ دوستوں کی زیادہ فکر کرتے ہیں؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔