رافیل معاملہ: جھوٹ پکڑے جانے پر حکومت کی سینہ زوری، کہا- ’عدالت نے سمجھا ہی نہیں‘

حزب اختلاف کی جانب سے الزام لگایا جا رہا ہے کہ کیا حکومت نے رافیل معاملہ پر اپنے حق میں فیصلہ لینے کے لئے یہ غلطی جان بوجھ کر کی ہے۔ اگر عدالت کی غلطی ہے تو عدالت کو اس معاملہ کو از سرنو دیکھنا چاہیے-

سپریم کورٹ
سپریم کورٹ
user

قومی آوازبیورو

رافیل سودے پر ابھی مرکزی حکومت کو خوش ہوئے ایک دن بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ آج حکومت کو عدالت میں ایک حلف نامہ پیش کرنا پڑا جس میں اس نے وضاحت کرنے کے ساتھ یہ کہا کہ حکومت نے کوئی غلطی نہیں کی تھی بلکہ عدالت نے اس کو غلط سمجھا اور غلط طریقہ سے پیش کیا۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے اپنی وضاحت میں کہا ہے کہ اس نے عدالت کو مطلع کیا تھا کہ اس معاملہ میں سی اے جی ایک رپورٹ تیار کرتی ہے اور وہ رپورٹ پی اے سی میں پیش کی جاتی ہے لیکن عدالت نے اس تعلق سے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ سی اے جی نے پی اے سی میں رپورٹ پیش کی اور پی اے سی نے اس کو منظور کرلیا۔

ذرائع کے مطابق حکومت کی اس وضاحت سے ایک بات صاف ہو گئی ہے کہ اس پورے معاملہ میں حکومت یا عدالت میں سے کسی ایک سے غلطی ہوئی ہے۔ حز ب اختلاف کی جانب سے الزام لگایا جا رہا ہے کہ کیا رافیل معاملہ پر اپنے حق میں فیصلہ لینے کے لئے یہ غلطی جان بوجھ کر ہوئی۔ اگر عدالت کی غلطی ہے تو عدالت کو اس معاملہ کو از سر نو دیکھنا چاہیے اور اپنے فیصلہ پر از سر نو غور کرنا چاہیے۔

واضح رہے کل سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ نے رافیل سودے پر فیصلہ دیا تھا کہ اس سودے میں کوئی گڑبڑی نہیں ہوئی ہے اور اس فیصلہ کے حق میں حکومت کی طرف سے پیش سی اے جی رپورٹ کا حوالہ دیا تھا ۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد جہاں بی جے پی نے اس کو رافیل معاملہ پر مودی حکومت کو کلین چٹ دینے سے تعبیر کیا تھا وہیں عرضی گزاروں نے عدالت کے فیصلہ پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت نے جس بنیاد پر فیصلہ سنایا ہے ایسی کوئی رپورٹ سی اے جی نے پیش ہی نہیں کی ۔ اسی سلسلے میں حکومت نے آج وضاحتی حلف نامہ عدالت عظمی میں پیش کیا جس میں اس نے کہا کہ عدالت نے ہمارے حلف نامہ کو غلط پڑھا اور اس کو غلط طریقہ سے پیش کیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 15 Dec 2018, 6:05 PM
;