رابعہ گرلز پبلک اسکول نے دسویں اور بارہویں کی ٹاپرس کو ایوارڈ سے نوازا

انعامی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی موجود ڈائریکٹریٹ آف ایجوکیشن میں آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹیز لولی واسودیو نے طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’تعلیم کے بغیر انسان کی زندگی ادھوری اور بے رونق ہے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

دسویں جماعت کی ٹاپر ریشماں نفیس اور بارہویں جماعت کی ٹاپر ہانیہ جمیل (ہیومینٹیز) کو ان کے والدین کے ساتھ 31 جولائی کو رابعہ گرلز پبلک اسکول میں اعزاز سے نوازا گیا۔ ان کے ساتھ ہی 90 فیصد اور اس سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والی طالبات کو بھی اسکول نے ایوارڈ پیش کیا۔ یہ انعامات ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کر کے رابعہ گرلز پبلک اسکول کے ذریعہ دئیے گئے اور اس موقع پر ڈائریکٹریٹ آف ایجوکیشن میں آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹیز لولی واسودیو بطور مہمانِ خصوصی شریک تھیں۔

رابعہ گرلز پبلک اسکول نے دسویں اور بارہویں کی ٹاپرس کو ایوارڈ سے نوازا

پرانی دہلی کے مشہور رابعہ گرلز پبلک اسکول میں تقریب کا آغاز حسب سابق تلاوتِ قرآن پاک سے کیا گیا اور ساتھ ہی ان آیات کا ترجمہ انگریزی میں بھی پیش کیا گیا۔ اس کے بعد باضابطہ ہونہار بچیوں کو ایوارڈ سے نوازنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ تقریب میں مختلف مضامین کی ٹاپرس کو بھی انعامات سے سرفراز کیا گیا اور وہ طالبات جنھوں نے پانچوں مضامین میں 75 فیصد یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کیے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی کے لیے انھیں بھی انعامات دیئے گئے۔

اس موقع پر دسویں و بارہویں جماعت میں صد فیصد حاضری والی طالبات کو سرٹیفکیٹ اور میڈل پیش کیا گیا۔ ساتھ ہی اس سال دسویں جماعت کی بیسٹ ٹیچر کا ایوارڈ جویریہ کرمانی اور سحر پروین کو، جب کہ بارہویں جماعت کی بیسٹ ٹیچر کا ایوارڈ زینوبیہ صدیقی کو دیا گیا۔ علاوہ ازیں بارہویں جماعت میں ہوم سائنس اور جغرافیہ میں ہانیہ جمیل کے 100-100 نمبر لانے پر ہوم سائنس ٹیچر اور جغرافیہ ٹیچر کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔ دسویں و بارہویں جماعت کی ان اساتذہ کو بھی ایوارڈ سے نوازا گیا جن کا ریزلٹ گزشتہ سال کے مقابلے اس سال مزید بہتر ہوا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی لولی واسودیو نے ہونہار طالبات کی تعریف کی اور تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’تعلیم کے بغیر انسان کی زندگی ادھوری ہوتی ہے، بے رونق ہوتی ہے۔‘‘ اس موقع پر انھوں نے سنسکرت کا ایک دوہا بھی پڑھا جس کا لب و لباب یہ تھا کہ تعلیم کے بغیر انسان اس ہرن کی مانند ہے جس کے پاس نہ سینگ ہو نہ کستوری۔

تقریب میں سکریٹری آف ہمدرد ایجوکیشن سوسائٹی ثمر حامد بھی موجود تھے۔ انھوں نے طالبات کی کردار سازی پر بہت زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’کردار کے بغیر تعلیم کی کوئی حیثیت نہیں۔‘‘ تقریب میں موجود والدین سے مخاطب ہوتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’اگر آپ اپنے بچے کو اچھا انسان بنانا چاہتے ہیں تو اس کے کردار کو سنوارئیے۔ اس کے کردار کی بنیاد سچائی ہے۔‘‘ ثمر حامد نے والدین سے لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کی گزارش بھی کی۔

اس انعامی تقریب میں ہمدرد پبلک اسکول (سنگم وہار) کی منیجر ذکیہ صدیقی اور ثمن غفور بطور مہمانِ ذی وقار موجود تھیں۔ رابعہ گرلز پبلک اسکول کی پرنسپل ڈاکٹر ناہید عثمانی نے تمام مہمانان کا استقبال کیا اور نائمہ خاں نے گلہائے عقیدت پیش کیا۔ نظامت کے فرائض سمیہ مسعودی اور رابعہ کریم نے ادا کیے۔

next