اعلیٰ ذات کے لیے ریزرویشن نافذ، لیکن مودی حکومت میں ملازمتیں ہیں کہاں!

مرکز میں مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے سرکاری تقرریوں میں لگاتار گراوٹ جاری ہے۔ گزشتہ تین سال کے دوران تقریباً دو لاکھ 30 ہزار سرکاری ملازمین کم ہوئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

اعلیٰ ذات یعنی جنرل کیٹگری کے معاشی طور سے کمزور طبقہ کو 10 فیصد ریزرویشن کا قانون بھلے ہی مودی حکومت نے نافذ کر دیا ہو، لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ملازمتیں ہیں کہاں؟ بھلے ہی جنرل کیٹگری کے معاشی طور سے پسماندہ لوگوں کو ریزرویشن دے دیا گیا ہو، لیکن اس کا فائدہ تبھی حاصل ہوگا جب ملازمتیں دستیاب ہوں۔ مرکز میں پی ایم مودی کی حکومت آنے کے بعد سے سرکاری تقرریوں میں لگاتار کمی ہوئی ہے۔ گزشتہ تین سال کے دوران تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار سرکاری ملازمین کم ہو گئے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ سال در سال لگاتار سرکاری ملازمتیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔ حکومت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مرکزی حکومت کے محکموں، سرکاری مشینریوں اور یہاں تک کہ پبلک بینکوں میں بھی ملازمتوں میں لگاتار کمی ہوئی ہے۔ مرکزی حکومت کے پرسونل اور ٹریننگ محکمہ (ڈی او پی ٹی) کے گزشتہ تین سال کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مودی حکومت کے آنے کے بعد سے یو پی ایس سی، اسٹاف سلیکشن کمیشن، ریلوے بھرتی بورڈ کی تقرریوں میں لگاتار گراوٹ آئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 2015 میں ان سروس کمیشن کے ذریعہ 113524 تقرریاں ہوئیں، جو 2017 میں گھٹ کر کل 100933 رہ گئیں۔

یو پی ایس سی اور آر آر بی کے روزگار کے اعداد و شمار کی بات کریں تو حالات فکر انگیز نظر آتے ہیں۔ مالی سال 2015 میں یو پی ایس سی کے ذریعہ کل 8272 تقرریاں کی گئیں جب کہ 2017 میں یہ عدد گھٹ کر 5735 ہی رہ گئی۔ بات ایس ایس سی کی کریں تو یہاں بھی کم و بیش وہی حال رہا۔ سال 2015 میں ایس ایس سی کے ذریعہ جہاں 58066 تقرریاں ہوئیں، وہیں 2016 میں صرف 25138 ملازمتیں دی گئیں۔ ہاں سال 2017 میں یہ اعداد و شمار بڑھ کر 68880 ضرور ہو گئی۔ وہیں آر آر بی اور آر آر سی کی تقرریوں میں بھی یہی حالت رہی۔ جہاں 2015 میں 47186 تقرریاں ہوئیں، وہیں 2017 میں صرف 26318 لوگوں کو روزگار مہیا کرایا گیا۔

تقرریوں میں گراوٹ کی یہی حالت پبلک سیکٹر کے سنٹرل مشینریوں میں بھی دیکھنے کو ملیں۔ بھاری صنعت اور وزارت برائے پبلک مشینری کے اعداد و شمار کے مطابق پبلک مشینریوں میں 2014 میں 16.91 لاکھ ملازمین تھے جو 2017 میں گھٹ کر 15.23 لاکھ رہ گئے۔ ان اعداد و شمار میں اگر جز وقتی ملازمین کی تعداد کو ہٹا دیں تو ان مشینریوں میں 2016 میں 11.85 لاکھ لوگ ملازمت پر تھے جب کہ 2017 میں یہ عدد گھٹ کر 11.31 لاکھ ہو گئی۔ اگر فیصد کی بات کریں تو اس ایک سال میں ہی پبلک مشینریوں میں ملازمین کی تعداد میں 4.60 فیصد کی گراوٹ درج ہوئی۔

حالانکہ ریزرو بینک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس دوران بینکوں میں کل روزگار میں تقریباً ساڑھے چار فیصد کا اضافہ ہوا۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ یہ اضافہ افسران کی تقرری میں درج کیا گیا۔ سچائی یہ ہے کہ بینکوں میں کلرک اور نچلے طبقہ کے سیکشن میں تقرری سال 2015 سے 2017 میں تقریباً 8 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی جو ایک فکر انگیز گراوٹ ہے۔ ان اعداد و شمار سے ایک ہی سوال کھڑا ہوتا ہے کہ بھلے ہی حکومت کسی بھی طبقہ کو ریزرویشن دے دے لیکن جب ملازمتیں رہیں گی ہی نہیں تو اس کے دائرے میں آنے والے لوگوں کو ملے گا کیا!

next