سوال تبلیغی جماعت پر نہیں، مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر اٹھ رہے ہیں

مت بھولیے کہ جس وقت جماعت کا جلسہ ہو رہا تھا اسی وقت صدر جمہوریہ 50-50 اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ ناشتہ کر رہے تھے، ایم پی میں اسمبلی چل رہی تھی اور ویشنو دیوی مندر میں 500 لوگ پھنسے تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تسلیم خان

کورونا وائرس کے بارے میں ڈیلی اَپ ڈیٹ کے لیے وزارت صحت کی منگل کے روز ہوئی پریس کانفرنس میں وزارت کے جوائنٹ سکریٹری لو اگروال نے کہا کہ "یہ وقت غلطیاں بتانے کا نہیں بلکہ تعریف کرنے کا ہے اور جن مقامات پر کوئی معاملہ سامنے آتا ہے تو اس کا طے طریقہ کار کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔"

لو اگروال کا یہ جواب دہلی کے نظام الدین واقع تبلیغی جماعت مرکز معاملہ میں تھا۔ یہ جواب سننے میں اچھا لگتا ہے کہ یہ وقت غلطیاں تلاش کرنے کی نہیں بلکہ تعریف کرنے کی ہے۔ لیکن نظام الدین معاملے نے جس طرح کا ماحول کل شام سے پیدا کیا ہے، وہ بے حد افسوسناک اور خطرناک ہے۔ سوشل میڈیا سے لے کر نیوز چینلوں تک صرف یہی بحث ہے کہ نظام الدین میں ایک ساتھ ہزاروں لوگ (1000 سے زیادہ) چھپے بیٹھے تھے۔ کوئی اسے کورونا بم کا نام دے رہا ہے تو کوئی اسے کورونا جہاد کہہ رہا ہے۔

حالات دھماکہ خیز ہو سکتے ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں۔ اتنے لوگوں کا ایک ساتھ کسی ایک جگہ اکٹھا رہنا خطرناک ہے کیونکہ اس مہلک وائرس سے بچنے اور اسے پھیلنے سے روکنے کے لیے سوشل ڈسٹنسنگ ہی فی الحال واحد طریقہ ہے۔ تبلیغی جماعت نے ایک ساتھ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ایک ہی جگہ جمع کر کے رکھا، یہ جرم ہے اور کورونا سے لڑائی کے لیے بنائے گئے قانون کے تحت تبلیغی جماعت اور مذہبی جلسہ کرنے والوں کے خلاف معاملہ درج ہونا چاہیے۔

لیکن کیا یہ اتنا ہی سیدھا معاملہ ہے؟ نظام الدین میں تبلیغی جماعت کے جلسے کی جانکاری کیا پیر کے روز ہی سامنے آئی؟ کیا ملک میں کورونا سے متعلق صلاح مشورے اور تالی-تھالی، عوامی کرفیو، دفعہ 144 اور لاک ڈاؤن وغیرہ ہونے کے بعد یہ لوگ جمع ہوئے؟ کیا اس جلسے میں شامل ہوئے بیرون ملکی مہمان کورونا کی خبریں آنے سے پہلے ہی ہندوستان آ چکے تھے؟ کیا مرکز سے چند قدم کی دوری پر موجود دہلی پولس کے تھانہ کو کوئی بھنک نہیں تھی کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہیں؟

اب ذرا کرونولوجی سمجھیے...

تبلیغی جماعت کا جلسہ 13 سے 15 مارچ کے درمیان ہوا۔ اس میں شامل ہونے کے لیے آئے لوگ یا تو ان تاریخوں میں یا ان تاریخوں سے پہلے آئے۔ اس جلسے کی جانکاری مقامی انتظامیہ اور پولس کو تھی، اس میں شامل ہونے والے لوگوں کی تعداد بھی پتہ تھی۔ یہ سب مرکز اور تبلیغی جماعت کی طرف سے دی گئی صفائی میں کہا گیا ہے، جس کا نہ تو دہلی پولس اور نہ ہی دہلی انتظامیہ نے تردید کی ہے۔

اب سوال اٹھتا ہے کہ کیا تبلیغی جماعت کا جلسہ تنہا ایسا پروگرام تھا جس میں کثیر تعداد میں لوگ حصہ لے رہے تھے؟ انہی تاریخوں میں تو کرناٹک میں ایک عالیشان شادی میں سبھی لیڈر اور وزیر شامل ہوئے تھے۔ ان تاریخوں میں اتر پردیش میں پارٹیاں چل رہی تھیں، دہلی میں پارلیمنٹ اجلاس جاری تھا، صدر جمہوریہ 50-50 اراکین پارلیمنٹ کے گروپ کے ساتھ ناشتہ کر رہے تھے، پارلیمانی کمیٹیوں کی میٹنگیں ہو رہی تھیں، مدھیہ پردیش میں اسمبلی چل رہی تھی، نئی حکومت کا جشن منایا جا رہا تھا، دہلی کی اسمبلی چل رہی تھی۔ وشنو دیوی کے مندر میں تقریباً 500 لوگ جمع تھے جنھیں وہاں سے ہٹانے کے لیے ہائی کورٹ کو مداخلت کرنی پڑی۔ اور دھیان رکھیے، ان تاریخوں تک مودی جی نے رات 8 بجے ٹی وی پر جلوہ افروز ہو کر 'بھائیو-بہنوں' نہیں کیا تھا۔

تو پھر نظام الدین کو لے کر اتنا ہنگامہ کیوں؟

ہاں، جواب ہو سکتا ہے کہ یہاں کے لوگ کورونا پازیٹو پائے گئے، کچھ لوگوں کی موت ہو گئی، بہت سے لوگوں کا پتہ نہیں ہے۔ لیکن کیا یہی وجہ ہے کہ کورونا وائرس جیسی وبا سے جڑی جانکاریوں کی جگہ صرف اور صرف نظام الدین ہی فوکس میں ہو؟

تھوڑا پیچھے جائیں گے تو ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ جب جب موجودہ حکومت کسی بھی قومی بحران میں پھنستی ہے، اس کی بدانتظامی سامنے آتی ہے، اس کی قابلیت پر سوال اٹھتے ہیں تو وہ کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کرتی ہے کہ ملک کا دھیان کسی اور معاملے میں الجھ جاتا ہے۔ گزشتہ سال لوک سبھا الیکشن سے پہلے کا وقت یاد کیجیے۔ اس وقت ملک کی معیشت کی بدتر حالت سرخیوں میں تھی۔ بے روزگاری سارے ریکارڈ توڑ چکی تھی۔ نوٹ بندی اور آدھی ادھوری تیاریوں کے ساتھ نافذ جی ایس ٹی کی وجہ سے صنعتوں و کاروبار کی حالت خراب ہو چکی تھی۔ اس پر طرہ یہ کہ پلوامہ میں ہمارے 40 سے زیادہ جوانوں کی جان دہشت گردانہ حملے میں چلی گئی تھی۔ تبھی بالاکوٹ ہوا اور ملک سب کچھ بھول کر 'بھائیو-بہنوں' کو سننے لگا۔

ایسا ہی کورونا بحران کے وقت ہوا ہے۔ ایک ایڈہاک سوچ کے ساتھ صرف 4 گھنٹے کے نوٹس پر لاک ڈاؤن کا اعلان کرنے کے بعد حکومت مطمئن ہو گئی تھی کہ اب کورونا سے نمٹ لیں گے۔ لیکن اگلی صبح ہوتے ہوتے ملک بھر کے مہاجر مزدوروں کی بھگدڑ شروع ہو گئی۔ ہزاروں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل پڑے، اپنے اپنے گھروں کی طرف رخ کیا۔ سب سے برا حال دہلی کا تھا جہاں دو دو حکومتیں تھیں اور ان مہاجر مزدوروں کو یہ سمجھانے میں ناکام ثابت ہو چکی تھیں کہ ان کا دھیان رکھا جائے گا، ان کو روٹی ملتی رہے گی۔

کیجریوال پریس کانفرنس پر پریس کانفرنس کر رہے تھے، ایل جی انل بیجل کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلتے نظر آ رہے تھے۔ مرکز کی مودی حکومت کی طرف سے شاہی مشورے جاری ہو رہے تھے۔ لیکن مزدوروں کی بے بسی لگاتار جاری تھی۔ دھیرے دھیرے ملک اور دنیا کے اخبارات کے پہلے صفحے ان مزدوروں کی مجبوریوں کو سرخیاں بنانے لگے تھے۔ بغیر کسی تیاری کے صرف چار گھنٹے کے نوٹس پر ملک بھر کے لاکھوں مزدوروں کا 'بھائیو-بہنوں' ہو چکا تھا اور حکومت کے پاس کوئی منصوبہ، کوئی خاکہ نہیں تھا اس بحران سے نمٹنے کا۔ مرکز سے لے کر ریاستی حکومتیں تک صرف منھ تاکتے نظر آ رہی تھیں۔

اس سے دھیان ہٹانے کے لیے پہلے ٹھیکرا دہلی کی کیجریوال حکومت پر پھوڑنے کی کوشش ہوئی، لیکن جب کیجریوال بھی مودی جی کے سُر میں سُر ملانے لگے تو سرخیاں بدلنے کے لیے نئی پالیسی پر کام شروع ہوا۔ اس دوران ملک میں کورونا کے نئے نئے کیس سامنے آ رہے تھے، اموات کی تعداد بھی بڑھ رہی تھی، راشن کی کمی کی خبریں سرخیاں بننے لگی تھیں۔ ایسے میں کچھ ایسا چاہیے تھا جو پورا کا پورا نقشہ ہی بدل دے۔ اور تبلیغی جماعت کے نظام الدین واقع جلسہ نے یہ موقع تھالی میں سجا کر رکھ دیا۔

یہ ایک طرح سے حکومت کے لیے نفع بخش معلوم پڑ رہا تھا۔ اس میں پاکستان بھی تھا اور مسلمان بھی۔ اس نے ان سارے دعووں اور اعلانات کو چھپا لیا جو لگاتار کیے جا رہے تھے۔ مثلاً جب 22 مارچ کو تالی-تھالی ہوئی تو بھی نظام الدین میں لوگ تھے۔ جماعت لگاتار پولس اور افسروں سے اپیل کر رہی تھی کہ انھیں کہیں دوسری جگہ بھیج دو۔ لیکن اسے ٹالا جاتا رہا۔ اس دعوے کی بھی قلعی کھل گئی کہ جنوری سے ہی ائیر پورٹ پر اسکریننگ ہو رہی ہے۔ اگر ایسا تھا تو پھر تقریباً ڈھائی سو غیر ملکی (جن پر شبہ ہے کہ ان میں سے کچھ کورونا پازیٹو تھے اور انہی سے یہ وائرس باقی لوگوں میں پھیلا ہے) کیسے مرکز تک پہنچ گئے۔

بہر حال، سرخیاں بدل چکی ہیں۔ ٹی وی چینلوں پر ڈیبیٹ (مباحثہ) کے سبجیکٹ بدل چکے ہیں۔ وہاٹس ایپ گروپ اور سوشل میڈیا کے تمام ذرئع پر نظام الدین چھایا ہوا ہے۔ سر پر گٹھری اٹھائے مزدوروں کی ٹولی کو لوگ بھول چکے ہیں۔ تین دن بعد ہاتھ میں روٹی آنے پر پھوٹ پھوٹ کر روتے نوجوان کی تصویر لوگ بھول چکے ہیں۔ مظلوم مزدوروں پر پولس کے لاٹھی ڈنڈے اور اٹھک بیٹھک کو بھی لوگ بھول چکے ہیں۔ سبزی، ترکاری سے بھرے ٹھیلوں کو پلٹتی ہوئی پولس کارروائی کو بھی لوگ اب بھول ہی چکے ہیں۔ یاد ہے تو بس نظام الدین...

لیکن یہ سب بھی یاد رکھا جائے گا...

next