وزیر اعظم کا خطاب انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے علاوہ کچھ نہیں 

کانگریس کے سینئر رہنما احمد پٹیل نے ٹوئٹ کے ذریعہ بتایا کہ جو پروگرام کانگریس حکومت کے دور میں شروع ہوا تھا وہ پائے تکمیل تک پہنچا اور اس کے لئے ملک کے سائنسدان مبارکباد کے مستحق ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ملک میں انتخابی عمل شروع ہو گیا ہے اور ضابطہ اخلاق پوری طرح نافذ العمل ہے اور اسی درمیان نیوز ایجنسی اے این آئی کے ذریعہ ایک پیغام آیا کہ وزیر اعظم قوم سے خطاب کرنے جا رہے ہیں ۔ قوم سے خطاب کے اعلان سے ہی عوام میں خوف پیدا ہو گیا ، ذرائع ابلاغ کے لوگ جنگ، معیشت سے لے کر ہر ممکن قیاس آرائیاں کرنے لگے ۔ بہت سے لوگوں کو8 نومبر 2016 کی وہ شام یاد آ گئی جب وزیر اعظم نے اپنے خطاب کے ذریعہ اعلان کیا تھا کہ ’’آج آدھی رات کے بعد500 اور 1000روپے کی کرنسی بند ہو جائے گی ‘‘۔ اس کے اثرات سے لوگ آج بھی خوفزدہ ہو جاتے ہیں ۔اس خطاب کے تعلق سے کانگریس کے سینئر رہنما احمد پٹیل نے ٹوئٹ کے ذریعہ بتایا کہ جو پروگرام کانگریس حکومت کے دور میں شروع ہوا تھا وہ پائے تکمیل تک پہنچا اور اس کے لئے ملک کے سائنسدان مبارکباد کے مستحق ہیں۔

وزیر اعظم کے خطاب سے پہلے چونکہ کابینہ کی سیکورٹی کمیٹی (سی سی ایس ) کی میٹنگ ہوئی اس لئے اکثریت کے ذہن میں پاکستان اور جنگ ہی آیا ۔ انتظار کے بعد جب وزیر اعظم کا خطاب سامنے آیا تو اس میں کسی کو کچھ ایسا محسوس نہیں ہوا جس کے لئے وزیر اعظم کو قوم سے خطاب کرنا چاہیے تھا اور وہ بھی عین انتخابات کے درمیان ۔ یہ کوئی نیا اسپیس پرگرام نہیں تھا جس کا اعلان خود وزیر اعظم کو کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ یہ پروگرام سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے شروع کیا تھا اور اس کا اعلان ڈی آر ڈی او کر سکتا تھا ۔

وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا ’’27 مارچ ہندوستان کے لیے تاریخی موقع ہے۔ یہ دن ہندوستانی عوام کے لیے فخر کے قابل ہے۔ ہندوستان نے آج اپنا نام دنیا میں اسپیس پاور کی شکل میں درج کرا لیا۔ اب تک دنیا کے تین ملک امریکہ، روس اور چین کو یہ فخر حاصل تھا۔ اب ہندوستان چوتھا ملک ہے جس نے آج یہ کامیابی حاصل کی۔ ہر ہندوستانی کے لیے اس سے زیادہ فخر کا لمحہ نہیں ہو سکتا ہے۔ کچھ ہی وقت پہلے ہمارے سائنسدانوں نے اسپیس میں تین سو کلو میٹر دور ایل ای او (لو اَرت آربٹ) میں ایک لائیو سیٹلائٹ کو مار گرایا ہے۔‘‘

وزیر اعظم صرف اطلع دینے تک نہیں رکے بلکہ ان کا پورا خطاب صاف طور پر انتخابی خطاب تھا ۔ وزیر اعظم نے کہا ’’ہمارا اسٹرٹیجک مقصد امن قائم رکھنا ہے نہ کہ جنگ کا ماحول بنانا۔ پیارے لوگو، ہندوستان نے اسپیس کے شعبہ میں جو کام کیا ہے اس کا اصل مقصد ہندوستان کی مضبوطی اور تکنیکی ترقی ہے۔ آج کا یہ مشن شکتی ان خوابوں کو محفوظ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے جو ان تینوں ستونوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ آج کی کامیابی کو آنے والے وقت میں ایک محفوظ ملک، خوشحال ملک اور امن پسند ملک کی طرف بڑھتے قدم کی طرح دیکھا جانا چاہیے۔‘‘ جس انداز سے انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام کیا وہ صاف طور پر چناوی تھا۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے یہ خطاب انتخابی عمل کے درمیان کرنا انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے ۔ جبکہ سال 2012 میں وزیر اعظم منموہن سنگھ نے یہ پروگرام شروع کیا تھا۔

Published: 27 Mar 2019, 2:09 PM