مجاہدین آزادی کی جان اور آواز تھا ’قومی آواز‘

پہلے وزیر اعظم نہرو کے ذریعہ شروع کیے گئے قومی آواز اور نیشنل ہیرالڈ کے ایسے متوالے آج بھی ہیں جن کے پاس آزادی سے پہلے کی کاپیاں موجود ہیں۔

تصویر آس محمد/قومی آواز
تصویر آس محمد/قومی آواز

آس محمد کیف

قومی آواز اور نیشنل ہیرالڈ آزادی کے متوالوں کی زندگی کا اہم حصہ تھا اور کچھ لوگوں کو ان اخبارات سے اتنا لگاؤ تھا کہ ان کے گھروں میں آج بھی آزادی سے پہلے ان اخباروں کی کاپیاں بہت احتیاط سے رکھی ہوئی ہیں۔ ایسا ہی ایک خاندان دیوبند میں مقیم ہے جن کے پاس آزادی سے پہلے کے قومی آواز اور نیشنل ہیرالڈ کی کاپیاں محفوظ ہیں۔ دیوبند کے رہنے والے شارق حسین ان لوگوں میں سے ہیں جن کے گھر میں 73 سال پرانے قومی آواز اور نیشنل ہیرالڈ اخبارات کی کاپیاں محفوظ ہیں۔ 1946میں شائع ہوئے قومی آواز اور نیشنل ہیرالڈ کی کاپی رکھنے والے شارق حسین اپنے اس ادبی خزانہ پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

تصویر آس محمد/قومی آواز
تصویر آس محمد/قومی آواز

شارق حسین کا تعلق مولانا عبدالقادر جیلانی کے خانوادے سے ہے۔ 40 سالہ شارق حسین کے مطابق یہ اخبار ان کی والدہ نے سنبھال کر رکھے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ماموں محمد کاظم آزادی سے پہلے قومی آواز میں خبریں لکھا کرتے تھے۔ شارق کے بزرگوں نے ہی دیوبند میں پہلا مدرسہ قائم کیا تھا جو 314 سال پرانا ہے۔ شارق نے قومی آواز کے رپورٹر کو بتایا کہ ان کی والدہ اپنے بھائی کے ساتھ اکثر قومی آواز اخبار کے بارے میں باتیں کرتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ بتاتی تھیں کہ اس اخبار میں آزادی کی لڑائی کی خبریں بہت نمایاں طور پر شائع ہوتی تھیں اور قاری بہت دلچسپی کے ساتھ ان خبروں کو پڑھا کرتے تھے۔

شارق حسین اس اخبار کے ذریعہ کی گئی صحافت کا آج کی صحافت سے مقابلہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس دور میں صحافت کا ایک معیار اور مقصد ہوتا تھا جبکہ آج کی صحافت غیر معیاری ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد کی سپرستی میں قومی آواز نے اصولوں پر مبنی معیاری صحافت کی جس کا آج کوئی مقابلہ نہیں۔

آزادی کی لڑائی میں انگریزوں کی جانب سے ہونے والی زیادتیوں کے خلاف قومی آواز اور نیشنل ہیرالڈ نے کھل کر لکھا اور کبھی انگریز حکمرانوں کے آگے نہیں جھکے۔ شارق1946 کے اخبار کی کاپی دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب وہ اس دور کے اخبار کو پڑھتے ہیں تو بہت سی سنی اور پڑھی ہوئی باتیں تازہ ہو جاتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آزادی حاصل کرنے کے بعد اس دور کی یہ خبر پڑھ کر بہت اچھا لگتا ہے کہ مہاتما گاندھی اعلان کرتے ہیں کہ ہندوستان کو انگریزوں سے آزادی ملنے والی ہے۔

شارق حسین 17 اپریل1946 کا قومی آواز دکھاتے ہیں جس کی لیڈ خبر ہے کہ ’’کانگریس نے مسلمانوں کے تمام اندیشے دور کر دیئے‘‘ جبکہ14 اپریل1946 کے نیشنل ہیرالڈ کی سرخی ہے ’’ایران کے مدے پر ماسکو کا بیان۔‘‘ اس کے ساتھ اس اخبار کے بانی جواہر لال نہرو کے کانگریس ورکنگ کمیٹی میں دیئے گئے ایک بیان کو بھی شائع کیا گیا ہے۔ اس خبر کے ساتھ جو ایک تصویر شائع کی گئی ہے اس میں سردار ولبھ بھائی پٹیل، آچاریہ کرپلانی اور بابو راجندر پرساد کانگریس میٹنگ میں شرکت کرنے کے لئے جا رہے ہیں۔

شارق کہتے ہیں کہ بھلے ہی لوگ آج پرانی باتوں سے انحراف کر رہے ہوں اور نئی باتیں تھوپنے کی کوشش کر رہے ہوں لیکن ان کے پاس ان تاریخی لمحات کا خزانہ ہے اور وہ اس پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ آزادی کی لڑائی میں ایسے ہی کچھ اخبار مجاہدین آزادی کی آواز تھے۔ ہندوستان کو اپنے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو پر فخر ہے جنہوں نے اپنی دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ اخبار شروع کیا تھا جو مجاہدین آزادی کی آواز بنا۔