قومی آواز بلیٹن: عرفان خان کے انتقال سے چہار جانب غم و اندوہ، اظہارِ تعزیت کا سلسلہ جاری

پیش خدمت ہیں آج کی کچھ اہم خبریں: عرفان خان کے انتقال پر پی ایم مودی، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی کی خراج عقیدت، اور پوری دنیا میں کورونا متاثرین کی تعداد ساڑھے 31 لاکھ سے تجاوز

user

قومی آوازبیورو

’’زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا، ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے‘‘

بالی ووڈ کے محبوب اداکار عرفان خان کینسر سے اپنی زندگی کی جنگ ہار گئے اور داستاں سناتے سناتے ہمیشہ کے لئے سو گئے۔ عرفان نے اپنی 54 سالہ زندگی میں نہ صرف اپنی اداکاری کا لوہا منوایا بلکہ اداکاری کی دنیا میں وہ ایک ادارہ بن کر سامنے آئے۔

بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کے مقبول اداکار عرفان خان نے اپنی زندگی کی آخری سانس آج صبح 11 بجے ممبئی کے کوکیلا بین دھیرو بھائی امبانی اسپتال میں لی اور سہ پہر 3 بجے انہیں ممبئی کے ورسووا واقع قبرستان میں سپر د خاک کیا گیا۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کی تدفین میں نہ تو ان کے بھائی اور دیگر عزیز شریک ہو پائے اور نہ ہی انڈسٹری کے لوگ، منگل کی شام کو ان کی طبعیت اچانک خراب ہوئی جس کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا، ان کو آئی سی یو میں منتقل کیا گیا لیکن صبح 11 بجے وہ اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔

’’میں آج آپ کے ساتھ بھی ہوں اور نہیں بھی‘‘ ایسے خطاب کیا تھا عرفان نے آخری مرتبہ

اپنی آخری بالی ووڈ فلم ’’انگلش میڈئم ‘‘ کے پرموشن کے دوران عرفان خان نے اپنے مداحوں سے آخری مرتبہ کچھ اس طرح خطاب کیا تھا ’’ہیلو بھائیوں بہنوں، میں عرفان خان، میں آج آپ کے ساتھ ہوں بھی اور نہیں بھی‘‘

عرفان خان اداکار نہیں کرکٹر بننا چاہتے تھے

بالی ووڈ میں اپنی سنجیدہ اداکاری کے لئے مشہور ادا کار عرفان خان اب ہمارے بیچ نہیں رہے۔ عرفان نے اپنی زبردست اداکاری سے نہ صرف بالی ووڈ بلکہ ہالی ووڈ میں بھی اپنے ہنر کے جوہر دکھائے لیکن وہ اداکار نہیں کرکٹر بننا چاہتے تھے۔

عرفان خان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنا مقدر خود بنایا اور ممبئی جیسے شہر میں ان کا کوئی گاڈ فادر نہیں تھا لیکن اپنی اداکاری کے ہنر کے ذریعہ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔عرفان کی پیدائش راجستھان کے جے پور کے ایک غریب گھرانے میں سات جنوری 1967 کو ہوئی تھی۔ ان کے والد کی ایک ٹائر پنچر بنانے کی دکان تھی۔ ان کے والد کا نام صاحب زادے یاسین علی خان ہے اور ماں کا نام سعیدہ بیگم تھا، جن کا انتقال ابھی 25 اپریل کو ہی ہوا ہے اور عرفان لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنی والدہ کے جنازے میں شریک نہیں ہوسکے تھے۔

بڑے بیٹے ہونے کے ناطے عرفان پر ذمہ داریاں بھی بہت تھیں۔ گھروالوں کو بھی امید تھی کہ عرفان جلد کمانا شروع کردیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا، بچپن کے دنوں میں عرفان کرکٹر بننا چاہتے تھے لیکن گھر والوں کی جانب سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے انہیں اپنی خواہش بدلنی پڑی اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ بچپن میں اچھے کرکٹر تھے اور سی کے نائیڈو ٹرافی کے لئے ان کا سلیکشن بھی ہوگیا تھا لیکن قسمت تو ان کو دنیا کا معروف اداکار بنانا چاہتی تھی۔

عرفان جب گریجویشن کررہے تھے، اسی وقت ان کی توجہ ایکٹنگ کی طرف مائل ہوگئی۔ پہلے کچھ نئے اداکاروں کے ساتھ وہ اداکاری سیکھنے کی کوشش کرنے لگے۔ پھر ان کی ملاقات نیشنل اسکول آف ڈرامہ (این ایس ڈی) کے ایک شخص سے ہوئی جو کالجوں میں جاکر ڈرامہ کیا کرتے تھے۔عرفان بھی ان کے ساتھ ان کی ٹیم میں شامل ہوگئے اور طلبہ کے ساتھ کوریڈور، کلاس روم، کینٹین میں ڈرامہ کرتے کرتے انہوں نے ایکٹنگ میں مہارت حاصل کرلی اور پھر ایکٹنگ کو ہی اپنا کیریئر بنا لیا۔

غموں نے ویسے ان کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑا، عرفان نے ایکٹنگ کے کورس کے لئے جب دہلی کے نیشنل اسکول آف ڈرامہ میں داخلہ لیا تو تھوڑے ہی دنوں بعد ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ ایسے میں عرفان کو گھر سے ملنے والی مالی مدد بند ہوگئی اور ایسے میں کچھ سہارا ان کو ملنے والی اسکالرشپ نے دیا اور کچھ ان کی ایک کلاس میٹ ستاپا سکدر نے دیا۔ کورس پورا ہونے کے بعد عرفان ستاپا کے ساتھ ممبئی آگئے اور بعد میں دونوں نے نکاح کرلیا۔ شادی کے بعد دونوں کے دو بیٹے ہیں بابل اور آیان خان۔

عرفاں خان کے کریئر کی شروعات ٹیلی ویژن سیرئل سے ہوئی تھی۔ اپنے شروعاتی دنوں میں وہ چانکیہ، بھارت ایک کھوج، چندر کانتا جیسے سیریل میں نظر آئے۔ انہوں نے اپنے فلمی کریئر کی شروعات سال 1988 میں میرا نائر کی فلم ’سلام بامبے‘ سے ایک چھوٹے سے رول سے کی تھی۔

عرفان کے انتقال پر وزیر اعظم سمیت متعدد شخصیات کی خراج عقیدت

وزیر اعظم نے معروف اداکار عرفان خان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عرفان کا انتقال سنیما اور تھیٹر کی دنیا کو ایک بڑا نقصان ہے۔ ان کو ان کی بہترین اداکاری کے لئے یاد رکھا جائےگا۔ غم کی گھڑی میں ان کے اہل خانہ، دوستوں اور مداحوں کے ساتھ ہوں۔

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے معروف اداکار عرفان خان کے انتقال پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ”عرفان خان کے انتقال کی خبر سن کر دکھ ہوا۔ بے شمار صلاحیتوں کے مالک وہ عظیم اداکار عالمی فلم اور ٹی وی دنیا میں نہایت مقبول ہندوستانی برانڈ ایمبسڈر تھے۔ ان کو کبھی بھولا نہیں جا سکے گا۔ دکھ کے اس وقت میں ان کے گھر والوں، دوستوں اور فینس کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔“

کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے معروف اداکار عرفان خان کو بے مثال اداکار قرار دیتے ہوئے ان کے انتقال پر کہا کہ عرفان خان کی بے مثال اداکاری کی دوسری مثال ملنی مشکل ہے۔ ان کی اداکاری نے زبانوں، ممالک اور مذہبوں کی سرحدوں کو توڑتے ہوئے اداکاری کا ایک ایسا لہجہ بنایا جس نے فن کے ذریعہ پوری انسانیت کو متحد کیا۔ انہوں نے کہا کہ عرفان کی اداکاری ہمارا اثاثہ ہے، ہم اسے سنبھال کر رکھیں گے۔

’’بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی، ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا‘‘

پوری دنیا میں کورونا متاثرین کی تعداد ساڑھے 31 لاکھ سے تجاوز

پوری دنیا میں کورونا متاثرین کی تعداد جہاں ساڑے 31 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے وہیں کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2 لاکھ 18ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ امریکہ میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 59 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور وہاں اس وبا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 10 لاکھ سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ اٹلی میں اموات کی تعداد 27 ہزار سے زیادہ ہے جبکہ اسپین میں 23 ہزار، فرانس میں 23 ہزار اور برطانیہ میں ساڑے 21 ہزار سے زیادہ ہے۔

قومی آواز کے قارئین سے ضروری گزارش، لاک ڈاؤن کے ضابطوں کی پابندی کریں۔ شکریہ