پنجاب کی خواتین نے اپنے ’خون‘ سے شہریت قانون کے خلاف لکھا ’عہد نامہ‘

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پنجاب میں ہر روز ہزاروں خواتین سڑکوں پر آ کر احتجاج کر رہی ہیں۔ کئی دنوں سے یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ مختلف شہروں میں ہو رہے مظاہروں میں سبھی طبقہ کی خواتین شامل ہو رہی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف پنجاب میں ہر روز ہزاروں خواتین سڑکوں پر آ کر احتجاج درج کر رہی ہیں۔ کئی دنوں سے یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ مختلف شہروں میں ہو رہے احتجاجی مظاہروں میں سبھی طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو کر سڑکوں پر اتر رہی ہیں۔ لدھیانہ میں سبھی مذاہب کی خواتین نے خون سے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف عہدنامہ تیار کیا۔ پنجاب میں ایسا منظر پہلی بار دیکھا جا رہا ہے۔

پنجاب کی خواتین نے اپنے ’خون‘ سے شہریت قانون کے خلاف لکھا ’عہد نامہ‘

واضح رہے کہ خواتین شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک کے کئی حصوں میں مظاہرہ کر رہی ہیں، ساتھ ہی پنجاب میں بھی خواتین بڑی تعداد میں گھروں سے باہر آ کر سی اے اے کے خلاف احتجاج درج کرا رہی ہیں۔ جب اتنی تعداد میں خواتین ایک ساتھ باہر نکلتی ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ آنچل سچ مچ پرچم بن گیا ہے۔ خواتین تنظیموں کے مطابق یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہنے والا ہے۔ اتوار کو لدھیانہ میں ہزاروں خواتین نے سی اے اے کے خلاف زور دار احتجاجی مظاہرہ کیا اور کئی کلو میٹر طویل جلوس نکالا۔ اس مظاہرہ میں کئی مشہور و معروف خواتین نے بھی حصہ لیا۔ پنجاب یونیورسٹی چنڈی گڑھ کی طلبا لیڈر کنوپریا، فتح چینل کی نودیپ کور، نسرین سلطانہ اور رہنما خاتون نے خواتین کے اس عظیم الشان مظاہرہ کی قیادت کی اور اپنے خون سے تحریر کیا ہوا عہد نامہ لدھیانہ کی تاریخی جامع مسجد کے شاہی امام کے حوالے کیا۔

پنجاب کی خواتین نے اپنے ’خون‘ سے شہریت قانون کے خلاف لکھا ’عہد نامہ‘

اس مظاہرہ میں ہر طبقہ اور ہر مذہب کے لوگوں نے حصہ لیا۔ لدھیانہ میں خواتین نے ہاتھوں میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر ’ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی آپس میں ہیں بھائی بھائی‘ اور ’ایک بھارت، اٹوٹ بھارت، پیارا بھارت‘ جیسے پیغام لکھے تھے۔ اس موقع پر پنجاب یونیورسٹی چنڈی گڑھ کی مشہور طلبا لیڈر کنوپریہ نے سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہندوستان کے اتحاد و سالمیت کو فرقہ پرست طاقتیں ختم کرنا چاہتی ہیں۔ ملک کی ماں بہنیں اور بیٹیاں مودی حکومت کے ناپاک منصوبے کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔ روٹی کپڑا اور مکان کا وعدہ کرنے والے آج ملک میں اپنی ہی عوام سے شہریت کا سرٹیفکیٹ مانگ رہے ہیں۔‘‘ کنوپریہ نے مزید کہا کہ ’’ہم دہلی جا کر بھی احتجاج درج کریں گے۔ پنجاب کے ہر شہر میں خواتین ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو کر اس قانون کی مخالفت کر رہی ہیں اور اوسط میں یہ تعداد لاکھوں میں بیٹھتی ہے۔‘‘

پنجاب کی خواتین نے اپنے ’خون‘ سے شہریت قانون کے خلاف لکھا ’عہد نامہ‘

’فتح‘ چینل سے منسلک نودیپ کور کہتی ہیں کہ ’’سی اے اے اور این آر سی کے حامیوں کو ہوش میں آ کر دیکھنا چاہیے کہ تمام طبقات کی خواتین اس فاشسٹ قانون کے خلاف ہیں۔ کہیں اور دکھائی نہیں دے رہا تو پنجاب آ کر دیکھ لینا چاہیے۔‘‘ غور طلب ہے کہ ’ورودھ منچ‘ سے منسلک رہنما خاتون نے اس موقع پر فیض احمد فیض کی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ پڑھی تو سینکڑوں لڑکیوں اور خواتین نے ان کی آواز میں آواز ملائی اور جوشیلے نعرے بھی لگائے۔ نسرین سلطانہ نے پنجابی میں بولتے ہوئے شہریت ترمیمی قانون پر سخت حملہ کیا اور کہا کہ ’’اس قانون کے خلاف پنجاب کی خواتین کا اتحاد مودی حکومت کے لیے بہت بڑا چیلنج اور خطرے کی گھنٹی ہے۔‘‘

پنجاب کی خواتین نے اپنے ’خون‘ سے شہریت قانون کے خلاف لکھا ’عہد نامہ‘

لدھیانہ میں خواتین کا احتجاجی مظاہرہ شہر کی کئی سڑکوں سے ہوتے ہوئے جامع مسجد پہنچا جہاں خواتین نے شاہی امام پنجاب مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی کو اپنے خون سے لکھا عہد نامہ پیش کیا۔ اس کے بعد شاہی امام نے کہا کہ ’’مودی حکومت ملک کی بیٹیوں کے سوالوں سے بھاگ رہی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی ان کو اپنے بنائے قانون کے حق میں ریلیاں کرنی پڑ رہی ہیں۔ تمام مذاہب کی خواتین کا اس طرح مظاہرہ کرنا غیر معمولی ہے۔‘‘

خون سے تحریر کردہ عہد نامہ میں خواتین نے لکھا ہے کہ ’’اپنے خون کے آخری قطرے تک آئین کو توڑنے کی سازش کے تحت بنائے گئے اس قانون کے خلاف متحد ہو کر احتجاج کرتی رہیں گی۔ ہندوستان کی جنگ آزادی میں ہم سب ساتھ تھے اور کوئی بھی طاقت ہمارے بھائی چارہ، جو ڈائیورسٹی میں یونٹی کی علامت ہے، کو توڑ نہیں سکتا۔‘‘ اس میں آگے لکھا گیا ہے کہ ’’پناہ گزین ہمارے بھائی بہن ہیں، لیکن مذہب کی بنیاد پر نہیں، انسانیت اور ہندوستانیت کی بنیاد پر۔ حکومت پناہ گزینوں کی آڑ لے کر ملک میں جمہوریت کے قتل کی کوشش کر رہی ہے، جسے کبھی پورا نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘‘ اس عہد نامہ کی خاص بات یہ ہے کہ اسے ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی ہر مذہب کی خواتین نے اپنے خون سے لکھا ہے۔

Published: 20 Jan 2020, 8:11 PM