قرآن کی بےحرمتی کے خلاف لدھیانہ میں احتجاج، ناروے حکومت کا پتلا نذر آتش

شاہی امام پنجاب مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے کہا کہ قرآن کی بے حرمتی کر کے اسلام کے خاتمہ کا خواب دیکھنے والے جان لیں کہ جہاں بھی ایسی کوششیں کی گئی ہیں وہاں اسلام پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

لدھیانہ: حال ہی میں ناروے میں ایک مسلم مخالف تنظیم کی جانب سے قرآن کا نسخہ جلائے جانے کی کوشش کے واقعہ پر دنیا بھر کے مسلمان لگاتار اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ پنجاب کے لدھیانہ شہر میں بھی جمعہ کے روز اس ضمن میں مسلم طبقہ نے احتجاج کیا اور اسلام کے خلاف کسی بھی سازش کو ناکام بنانے کا عہد کیا۔ دریں اثنا مظاہرین نے محمد الیاس کی تصویر والے پوسٹر بھی تھامے ہوئے تھے جنہوں نے بہادری کے ساتھ قرآن کے نسخہ کو جلانے کی حرکت کو ناکام بنا دیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق شہر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد ’مجلس احرار اسلام ہند‘ کی سربراہی میں مسلم طبقہ سے وابستہ لوگوں نے ناروے میں قرآن کی بے حرمتی کے خلاف نعرےبازی کی اور ناروے حکومت کا پتلا نذر آتش کیا۔ دریں اثنا، گستاخانہ عمل کو انجام دینے والوں کے خلاف نعرےبازی بھی کی گئی۔

شاہی امام پنجاب مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے اس موقع پر کہا کہ ناروے کی اسلام مخالف تنظیم قرآن شریف کے نسخے کو جلاکر شاید یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ دنیا سے اسلام کا خاتمہ کردیں گے، جبکہ تاریخ شاہد ہے کہ جہاں بھی اس طرح کی کوششیں کی گئی ہیں، وہاں اسلام پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا ہے۔ شاہی امام نے کہا کہ قرآن مجید دنیا بھر کے انسانوں کے لئے نیکی اور مساوات کا درس دیتا ہے اور ظلم و ستم کرنے والوں کو یہی چیز پسند نہیں آتی۔

شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی نے مزید کہا کہ ناروے میں اسلام مخالف مظاہرے کے دوران قرآن پاک کے نسخے کو جلنے سے بچانے والا نوجوان محمد عمر الیاس آج پوری دنیا کے مسلمانوں کا ہیرو ہے۔ ہر مسلمان عمر الیاس کو سلام پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام دشمن عناصر دنیا بھر میں اسلام کو جنم کرنے کی سازشوں میں ملوث ہیں لیکن ان کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ قرآن کے نسخے کی بے حرمتی کا واقعہ کچھ روز قبل ناروے کے شہر کرسٹینسانڈ میں سٹاپ اسلام آئزیشن آف ناروے (ایس آئی اے این) نامی تنظیم کے احتجاج میں اس وقت رونما ہوا جب اس تنظیم کے رہنما لارس تھورسن نے مقامی پولس کے احکامات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قرآن کے ایک نسخے کو بھرے مجمع کے سامنے جلانے کی کوشش کی۔ اس دوران مجمع میں سے ایک نوجوان محمد عمر الیاس نے آگے بڑھ کر تھورسن کو دھکا دیا اور ہاتھا پائی کی کوشش کی جس کے بعد پولس نے دونوں افراد کو حراست میں لے لیا۔ عمر کو تبھی سے عالم اسلام میں ہیرو کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

Published: 29 Nov 2019, 7:36 PM
next